ڈبلن// پال اسٹرلنگ اور ہیری ٹییکٹر کی شاندار سنچریوں کے باوجود آئرلینڈ کو تین میچوں کی سیریز کے تیسرے اور آخری ون ڈے میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک رن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اس جیت کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ نے آئرلینڈ پر 3-0 سے کلین سویپ کیا۔ تین میچوں کی سیریز کافی قریبی رہی اور آئرلینڈ نے نیوزی لینڈ کو قریبی ٹکر دی۔ آئرلینڈ کی ٹیم پہلا میچ ایک وکٹ سے اور آخری میچ ایک رن سے ہار گئی۔تیسرے ون ڈے میں نیوزی لینڈ نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 6 وکٹوں پر 360 رن کا بڑا اسکور بنایا۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے مارٹن گپٹل نے شاندار سنچری بناتے ہوئے 115 رن بنائے جب کہ ہنری نکولس نے 79 رن کی بہترین نصف سنچری اسکور کی ۔آئرلینڈ کی جانب سے جوش لٹل نے 84 رن کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں۔361 رن کے بڑے ہدف کے تعاقب میں آئرش ٹیم پال اسٹرلنگ (120 رن، 103 گیندیں، 14 چوکے، 5 چھکے) اور ہیری ٹییکٹر (108 رن، 106 گیند، 7 چوکے اور 5 چھکے) کی شاندار سنچریوں کے باوجود 50 اوور میں 9 وکٹوں پر صرف 359 رن ہی بنا سکی اور ایک رن سے میچ ہار گئے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے میڈیم پیسر میٹ ہنری نے 68 رن کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں۔اس کے بعد نوجوان بلے باز ہیری ٹییکٹر نے بھی سنچری بنا کر میچ میں آئرلینڈ کی پوزیشن مضبوط کر دی۔
انہوں نے 106 گیندوں میں سات چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے 108 رنز بنائے۔ جب 44ویں اوور میں ٹییکٹر آؤٹ ہوئے تو آئرلینڈ کو جیت کے لیے 39 گیندوں پر 61 رنز درکار تھے۔ ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ آئرلینڈ میچ سے باہر ہوگیا ہے لیکن جارج ڈوکریل کی 22(17) کی شراکت نے میچ کو آخری گیند تک پہنچا دیا، حالانکہ آخر کار کیویز نے میچ ایک رن سے جیت لیا۔آئرلینڈ نے گزشتہ چند دنوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن بڑی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کے تجربے کی کمی کی وجہ سے اسے قریبی میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل آئرلینڈ کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے میں ایک وکٹ سے شکست ہوئی تھی جبکہ دوسرے ون ڈے میں اسے تین وکٹوں سے شکست ہوئی تھی۔ ہندوستان کے خلاف دوسرے ٹی۔ٹوئنٹی میں 226 رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے وہ صرف پانچ رنز سے باہر ہو گئیں۔آئرلینڈ کو اب بلیک کیپس کے خلاف تین میچوں کی ٹی۔ٹوئنٹی سیریز کھیلنی ہے، جس کا پہلا میچ 18 جولائی کو کھیلا جائے گا۔






