بیجنگ// ہینن بینک کے مظاہرین کو مطمئن کرنے کے لیے، صوبائی مالیاتی نگرانی کے بیورو نے ایک نوٹس شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ حالیہ بینکنگ اسکینڈل کے متاثرین کو ادائیگی کریں گے۔ مقامی میڈیا کے مطابق جن لوگوں نے 50,000 یوآن تک جمع کرائے تھے انہیں ان کی رقم واپس کر دی گئی ہے اور اب 100,000 تک ڈپازٹ رکھنے والے افراد کو ان کی رقم واپس کی جارہی ہے۔ اس سے قبل، چینی کمیونسٹ پارٹی کے ٹینک بدھ کے روز ہینان بینک کے مظاہرین کو خوفزدہ کرنے کے لیے سڑکوں پر
نکل آئے۔ اس صوبے میں بینک کھاتہ داروں کی جانب سے منجمد رقوم کی واپسی کیلئے بڑے پیمانے پر احتجاج کئے جارہے ہیں۔ مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ٹینک بینکوں کی حفاظت کے لیے سڑکوں پر موجود ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔ میڈیا نے مزید کہا کہ یہ واقعہ بینک آف چائنا کی ہینان برانچ کی روشنی میں سامنے آیا ہے جس میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ان کی برانچ میں لوگوں کی بچت ‘ سرمایہ کاری کی مصنوعات’ ہے اور اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔ مظاہرین کو روکنے کیلئے چینی ٹینکوں کا سڑکوں پر اترنا 4 جون 1989 کے ہولناک واقعے کی یاد دہانی ہے جب چینی رہنماؤں نے بیجنگ کے تیانمن اسکوائر کو خالی کرنے کے لیے ٹینک اور بھاری ہتھیاروں سے لیس فوج بھیجی، جہاں طلبہ مظاہرین جمہوریت اور زیادہ آزادیوں کا مطالبہ کرنے کے لیے ہفتوں سے جمع تھے۔
اس کریک ڈاؤن کو جس نے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں غیر مسلح مظاہرین کو ہلاک کیا تھا، کلاس رومز میں نظر انداز کیا جاتا ہے اور میڈیا اور آن لائن پر سختی سے سنسر کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے 10 جولائی کو، 1,000 سے زیادہ ڈپازٹرز ملک کے مرکزی بینک، پیپلز بینک آف چائنا کی زینگ زو برانچ کے باہر جمع ہوئے، تاکہ وہ اپنا اب تک کا سب سے بڑا احتجاج شروع کریں۔ غیر مرکزی دھارے والے ہانگ کانگ میڈیا کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایسے وقت میں جب استحکام پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے اور استحکام چینی صدر شی جن پنگ کے مفاد میں ہے، ایسے واقعات کو بڑھنے کی اجازت دینا (جیسے ژینگ ژو بینک کا احتجاج) یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان بینکوں کے پاس واقعی کچھ نہیں ہے۔ کم از کم اس وقت تک نہیں جب تک مسائل حل نہ ہو جائیں۔






