دھرم شالہ// تبت کے روحانی پیشوا، 14ویں دلائی لامہ نے بدھ کو کہا کہ ان کے پاس سچائی ہے اور انہوں نے خلوص نیت سے کام کیا ہے اور اس کے نتیجے میں تبتیوں کا مسئلہ سیاسی معاملہ ہے بلکہ یہ حقیقت کا معاملہ ہے۔انکا تبصرہ چین کے انسانیت سوز رویے اور چینی انتظامیہ کے تحت تبتیوں کے ان کہی مصائب کے خلاف تھا۔ اس سے پہلے ایک ماہر ہون شیانگ لاؤ، ریٹائرڈ چیئر پروفیسر، سٹی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ، نے تبت پر چین کے “جعلی” دعووں کو بے نقاب کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ تبت 1949 سے پہلے کی تاریخ میں کہیں بھی چین کا حصہ نہیں تھا۔
انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ تبت پر پی آر سی کی خودمختاری کا ثبوت نہ صرف تحریف پر مبنی ہے بلکہ 1949 سے پہلے کے چینی ریکارڈوں کی سراسر من گھڑت اور جعلسازی پر مبنی ہے۔شملہ میں اپنی 87 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، تبتی روحانی رہنما نے کہا،ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ سچائی ہے۔ ہم نے جھوٹ نہیں بولا۔
ہم اپنی جدوجہد میں مخلص رہے ہیں اس لیے میں نے ان تمام سالوں سے قانون کا احترام کرتے ہوئے خلوص دل سے کام کیا ہے اور اس کے نتیجے میں تبت کا مسئلہ نہ صرف ایک سیاسی معاملہ ہے بلکہ یہ سچائی کا معاملہ ہے۔تبت کی جلاوطن حکومت کی مرکزی تبتی انتظامیہ (سی ٹی اے) نے دھرم شالہ میں دلائی لامہ کی 87ویں سالگرہ کا اہتمام کیا۔تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ بدھ کو 87 برس کے ہو گئے۔ تبت کے منتخب نمائندوں اور مرکزی تبتی انتظامیہ کے فلاحی دفتر شملہ کے افسران نے چراغاں کیا، دعا کی اور کیک کاٹا۔مرکزی تبت انتظامیہ کے چیف نمائندہ افسر نے کہا کہ دنیا بھر میں امن اور ہمدردی کے فروغ کے لیے دلائی لامہ کا یوم پیدائش منانا ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔
لوگ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ کمیونسٹ ممالک کو چھوڑ کر پوری دنیا میں دلائی لامہ کا یوم پیدائش منا رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان نسل تبتی روایت اور ثقافت کی پیروی کریں اور اپنی جڑوں کو بھی جانیں۔






