کولمبو// سری لنکا کے تجارتی دارالحکومت کولمبو میں پولیس نے ہفتے کے روز ایک منصوبہ بند ریلی سے قبل طلباء مظاہرین پر آنسو گیس فائر کرنے اور واٹر کینن کے استعمال کے بعد کرفیو نافذ کر دیا۔ سری لنکا گذشتہ سات دہائیوں کے بدترین معاشی بحران پر عوام میں عدم اطمینان بڑھتا جا رہا ہے۔جزیرے کی قوم غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی کی وجہ سے معذور ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اسے ایندھن، خوراک اور ادویات کی ضروری درآمدات کی ادائیگی کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔
اس کے 22 ملین لوگ مہینوں سے ریکارڈ مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں۔بہت سے لوگ حالاتِ زندگی میں تیزی سے کمی کے لیے صدر گوٹابایا راجا پاکسے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں، جو کہ 1948 میں آزادی کے بعد سے بدترین ہے، جس نے بڑے پیمانے پر مظاہروں کو جنم دیا جو کبھی کبھی پرتشدد بھی ہو جاتا ہے۔
انٹر یونیورسٹی اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی رکن وسانتھا مدلیگے ،جس نے مارچ کا اہتمام کیا تھا کہ لوگ ایندھن کی قطاروں میں مر رہے ہیں اور دن میں بمشکل تین وقت کے کھانے کا انتظام کر سکتے ہیں۔ صدر اور ان کی حکومت نے اس ملک کے ساتھ یہی کیا ہے۔






