ایلماؤ ( جرمنی)// دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتوں کے رہنماؤں کے درمیان دوستی کی ایک شاندار مثال اس وقت دیکھنے میں آئی جب امریکی صدر جو بائیڈن گروپ آف سیون (G7) کے اجلاس کے مقام پر وزیر اعظم نریندر مودی کا استقبال کرنے کے لیے ان کے پاس خود چل کر گئے۔ بائیڈن اور پی ایم مودی کے اس موقف سے متعلق ویڈیو سوشل رابطوں کی سائٹ پر خوب وائرل ہورہی ہے۔ یہ شاندار واقعہ اس وقت پیش آیا جب جی۔
7 کے رکن ممالک گروپ فوٹو کھنچوانے کیلئے تیار ہورہے تھے۔ وائرل ہوئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے پی ایم مودی فرانسسی صدر کے ساتھ ہاتھ ملارہے تبھی امریکی صدر پیچھے سے آئے اور پی ایم مودی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر انہیں اپنی طرف متوجہ کیا اور پھر دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ بائیڈن کے علاوہ، پی ایم مودی کو فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سمیت گروپ کے سرکردہ رہنماؤں سے بات چیت کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
پی ایم مودی کو فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ بھی بات کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ایلماؤ میں سربراہی اجلاس کے دوسرے دن، G7 سربراہان مملکت اور حکومت کی مرکزی توجہ یوکرین کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ اس سے پہلےاتوار کو چانسلر نے G7 کے سربراہان مملکت اور حکومت کا جرمن صدارت میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں خیرمقدم کیا۔ سربراہی اجلاس کے آغاز میں چانسلر شولز نے کہا کہ “ہم دنیا کے بارے میں اپنے نقطہ نظر سے متحد ہیں۔ ہم جمہوریت اور قانون کی حکمرانی میں اپنے یقین سے بھی متحد ہیں۔ پی ایم مودی جی 7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے اتوار کو میونخ پہنچے تھے۔
جی 7 ایونٹ کے علاوہ، پی ایم مودی سربراہی اجلاس کے موقع پر کچھ حصہ لینے والے ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کی۔ دو دن تک جرمنی میں رہنے کے بعد پی ایم مودی آج متحدہ عرب امارات کے دورہ پر چلے گئے۔ متحدہ عرب امارات کا دورہ پی ایم مودی کے موجودہ بدیشی دورہ کا آخری پڑاو ہے۔





