Thursday, June 4, 2026
  • Home
  • ePaper
Daily Indian Times
  • Home
  • Top Stories
  • Region
  • National
  • World
  • Business
  • Sports
  • Edit
  • Opinion
  • ePaper
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Region
  • National
  • World
  • Business
  • Sports
  • Edit
  • Opinion
  • ePaper
No Result
View All Result
Daily Indian Times
No Result
View All Result
Home World

بائیڈن۔ محمود عباس ملاقات

فلسطینیوں کو انصاف چاہیے، فلسطینی نرس کا امریکی صدر کو پیغام

by Indian Times
16/07/2022
A A
FacebookTwitterWhatsappEmail

مشرقی یروشلم //امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے آج فلسطینی قیادت سے ملاقات کی ۔اس ملاقات کا ایک طویل عرصے سے انتظار تھا ۔ بائیڈن مے دورہ مشرقی وسطی کا ایک اہم پڑاو مانا جارہا تھا۔ اس موقع پر امریکی صدر کا کہنا تھا، فلسطینی اور اسرائیلی ایک طرح کی آزادی، سکیورٹی، خوشحالی اور احترام کے مستحق ہیں۔ ایسٹ یروشلم ہسپتال نیٹ ورک کی ایک علاج گاہ کا دورہ کرتے ہوئے امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلسطینی بہتر طبی سہولیات کے حق دار ہیں۔

امریکہ کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے 100 ملین ڈالر کی رقم کا اعلان کیا گیا ہے تاہم اس کی منظوری امریکی کانگریس دے گی۔ اس کے علاوہ امریکی صدر نے اقوام متحدہ کے ادارہء برائے فلسطینی مہاجرین اور دیگر منصوبوں کے لیے 201 ملین ڈالر کا بھی اعلان کیا۔اسرائیل نے بھی مغربی کنارے اور غزہ میں وائرلیس نیٹ ورک کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے تاکہ یہاں کے اقتصادی حالات بہتر بنائے جا سکیں۔ہسپتال کے بعد امریکی صدر بیت الحم کا دورہ کر رہے ہیں جہاں انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے ملاقات کی۔امریکی صدر کے مغربی کنارے کے دورہ کو شک کی نگاہ سے بھی دیکھا جارہا ہے۔

بہت سے فلسطینی سمجھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطین کو مکمل نظر انداز کیے جانے کے بعد صدر بائیڈن نے بھی امن مذاکرات کی بحالی سے متعلق اہم اقدامات نہیں اٹھائے۔ جس وقت صدر بائیڈن ہسپتال کے دورے پر تھے اس دوران ایک نرس نے امریکی صدرکی جانب سے پیش کی جانے والی مالی امداد کا شکریہ کیا لیکن کہا کہ فلسطینیوں کو انصاف اور عزت چاہیے۔اسرائیل اور فلسطین کے مابین مذاکرات کا آخری اہم دور، جس کا مقصد ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام تھا، دس سال پہلے منعقد ہوا تھا۔ اسرائیل کی سبکدوش ہونے والی حکومت نے فلسطین کی اقتصادی بحالی کے لیے کچھ اقدامات کو کیے ہیں لیکن یائر لاپیڈ کے پاس امن مذاکرات بحال کرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے۔

دوسری جانب 83 سالہ محمود عباس جن کی فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے کے کچھ علاقوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے اور جو سکیورٹی کے معاملات پر اسرائیل سے تعاون بھی کرتی ہے، دراصل فلسطینیوں کے احساسات کی درست نمائندگی نہیں کرتی۔ محمود عباس کی فتح جماعت کو پندرہ سال قبل انتخابات میں عسکریت پسند گروپ حماس نے شکست دی تھی۔ غزہ بھی حماس کے کنٹرول میں ہے۔ پندرہ سال بعد یہاں کرائے جانے والے انتخابات کو گزشتہ سال محمود عباس نے معطل کر دیا تھا اور اس کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا تھا۔ انہیں خدشہ تھا کہ فتح پارٹی ایک مرتبہ پھر بری طرح ناکام ہو گی۔ فلسطین میں 80 فیصد شہری چاہتے ہیں کہ محمود عباس اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔بائیڈن نے اپنے دورے کے دوران کہا ہے کہ وہ دو ریاستوں کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ابھی فلسطین اور اسرائیل کے مابین مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے حالات موافق نہیں ہیں۔ امریکہ یروشلم میں فلسطینیوں کے لیے اپنے قونصل خانہ اب تک نہ کھلنے کو بھی اپنی شکست تسلیم کرتا ہے۔

یہ قونصل خانہ اس وقت بند کر دیا گیا تھا جب اس سابق امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا تھا۔فلسطینی رہنما ‘ابراہم اکارڈز’ نامی معاہدے سے بھی خاصے پریشان ہیں۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں پر قبضے کے باوجود اس ملک کے عرب دنیا کے ساتھ سفارتی تعلقات بڑھائے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ابھی تک سعودی عرب اس معاہدے میں مکمل شراکت دار کے طور پر شامل نہیں ہے لیکن امریکی صدر سعودی عرب کے دورے کے دوران اسرائیل اور سعودی عرب کے مابین تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔اس دوران سعودی عرب کی جانب سے ‘تمام پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھولے جانے کا اعلان سامنے آیا ہے، جس کے تحت پہلی مرتبہ اسرائیل سے براہ راست فضائی طیارہ سعودی عرب پہنچے گا۔

اس پہلی تاریخی پرواز میں جمعے کو امریکی صدر سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل کی تعلقات کی بہتری کی ایک بڑی وجہ ایران ہے جو دونوں ممالک کا حریف ملک ہے۔فی الحال مشرقی یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ، جن پر اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا، وہاں ایک آزاد ریاست کا فلسطینی ہدف پہلے سے کہیں زیادہ دور دکھائی دیتا ہے۔اسرائیل الحاق شدہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں اپنی بستیوں کو بڑھا رہا ہے، جو اب تقریباً 700,000 یہودی آباد کاروں کے گھر ہیں۔ فلسطینی ان بستیوں کو امن مذاکرات کی سب سے بڑی روکاوٹ سمجھتے ہیں کیونکہ یہ بستیاں ان علاقوں پر مشتمل ہیں جسے وہ اپنی زمین سمجھتے ہیں۔

ShareTweetSendSend
Previous Post

شاہ سلمان اور ولی عہد سے امریکی صدر جو بائیڈن کی ملاقات

Next Post

بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کیلئے پرعزم/پانڈے

Indian Times

Indian Times

Related Posts

دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر کے حالات بدل گئے / راجناتھ سنگھ
Edit

سرحدوں پر پھیلے دہشت گرد نیٹ ورکس سیکورٹی کیلئے پیچیدہ مسئلہ / راجناتھ سنگھ

23/02/2026
چتر و کشتواڑ میں فوج و فورسز اور دہشت گردوں کےخلاف مسلح تصادم آرائی ،اعلیٰ جیش کمانڈر سمیت 3دہشت گرد
Edit

چتر و کشتواڑ میں فوج و فورسز اور دہشت گردوں کےخلاف مسلح تصادم آرائی ،اعلیٰ جیش کمانڈر سمیت 3دہشت گرد

23/02/2026
کابینہ نے خواتین ریزرویشن بل کو منظوری دی، اسے لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا: وزیراعظم مودی
Edit

لوگ آن لائن مالی فراڈ اور ڈیجیٹل گرفتاری کے خلاف چوکس رہیں / وزیر اعظم مودی

23/02/2026
کانگریس نے اپنے دور حکومت میں ہندوستان کو بدنام کیا/ وزیر اعظم نریندر مودی
Edit

بھارت امن پسند ملک لیکن ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا وزیر اعظم مودی

15/02/2026
2019پلوامہ خودکش حملے میں جاں بحق40سی آر پی ایف اہلکاروںکی ساتویں برسی
Edit

2019پلوامہ خودکش حملے میں جاں بحق40سی آر پی ایف اہلکاروںکی ساتویں برسی

15/02/2026
حکومت ہند کسانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے پرعزم /منوج سنہا
Business

حکومت ہند کسانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے پرعزم /منوج سنہا

12/02/2026
Next Post
بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کیلئے پرعزم/پانڈے

بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کیلئے پرعزم/پانڈے

  • Home
  • ePaper

© Indian Times - Designed by GITS

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Region
  • National
  • World
  • Business
  • Sports
  • Edit
  • Opinion
  • ePaper

© Indian Times - Designed by GITS