اسلام آباد//پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پنجاب کے ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد، مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قبل از وقت انتخابات ہونے والے ہیں تاہم فیصلہ صرف اتحادی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کے بعد ہی کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ثناء اللہ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ فریقین کے سامنے معاملہ پیش کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ خبروں کے مطابق ثناء اللہ نے عمران خان کی پارٹی کی بھاری
اکثریت سے حاصل ہونے والی کامیابی پر بھی ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ مسلم لیگ ( ن )نتائج قبول کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔ پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی بڑی کامیابی تھی۔ ملتان، ڈیرہ غازی خان، ساہیوال اور خوشاب کی صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پی ٹی آئی کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی جبکہ صوبے کے 15 حلقوں میں پارٹی نے واضح اکثریت سے برتری حاصل کی۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ20 نشستیں مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت کو چیلنج یا پیمائش نہیں کرتیں کیونکہ ان حلقوں کے لیے جو امیدوار انتخاب لڑ رہے تھے وہ ہمارے نہیں تھے۔ اسی طرح، مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز نے بھی کہا کہ پارٹی کو انتخابات سے قبل بات چیت اور خود شناسی کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے سپیکر پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار کے طور پر منتخب کرنے پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
ثناء اللہ نے کہا کہ وہ نہ تو جمہوری ہیں اور نہ ہی روادار اور کسی کی عزت نہیں کرتے۔ ثناء اللہ نے عمران خان کو اس وقت بھی تنقید کا نشانہ بنایا جب مؤخر الذکر نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے استعفیٰ دینے پر زور دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ان کی پارٹی پی ٹی آئی نے ریاستی مشینری کے غلط استعمال کے باوجود انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ ثناء اللہ نے کہا کہ جب سے کمیشن نے پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا ہے عمران خان سی ای سی پر حملے کر رہے ہیں۔






