تحریر/ ریاض بڈھانہ
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
غلام رسول بڈھانہ (آزاد)
پیدائش: 1954ء وفات 29 فروری 2024
غلام رسول آزاد کپواڑہ کے علاقہ ہچہ مرگ میں 1954 کو بڈھانہ خاندان میں پیدا ہوئے بنیادی تعلیم یہی سے حاصل کی اور پھر سری نگر سے بی اے اور کشمیر یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اُردو میں ایم فل بھی کی اور بعد میں اُردو کے لکچرار گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور رہے۔ پھر روزنامہ آفتاب کے اسٹنٹ ایڈیٹر اور آخر میں محکمہ انفارمیشن میں اُردو جریدے کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور بعد ازاں اسی محکمہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے بطور ترقی پائی اور بعد میں ڈائریکٹر پی آئی بی تعنات ہوئے ۔ آپ اُردو زبان و ادب کے اعلی سکالر تھے اور آپ کی قلم کی طاقت کا فائیدہ کئی سیاسی لیڈر بھی اٹھا چکے ہیں۔
غلام رسول بڈھانہ (آزاد) کے انتقال کی خبر سنتے ہی میرے سر پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا میں سوچ کے سمندر میں ڈوب گیا ،میں دانتوں تلے قلم دبائے سوچنے پر مجبور ہوگیا چونکہ مجھے آج ایک ایسی شخصیت کے بارے میں لکھنا تھا جس کیلے میرے پاس الفاظ نہیں تھے پر وہ آج میرا موضوع بن گیا تھا اور میں اُن کا تعارف کرانے کے لیے الفاظ کی کمی محسوس کر رہا تھا ، مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا میں نے بہت سوچا کہ کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم کروں۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جس پر میں لکھنے جا رہا ہوں۔ بے شک میں جس شخصیت کے بارے میں لکھنے جا رہا ہوں، میں ان کے ساتھ انصاف تو نہیں کر سکوں گا، لیکن کوشش ضرور کروں گا۔
غلام رسول بڈھانہ صاحب میرے لیے نہایت ہی قابل احترام شخصیت تھے اور اہم بھی،میں بڈھانہ صاحب مرحوم سے اکثر ملتا رہتا تھا اور جب کبھی کوئی رابطہ نہیں ہوتا تھا، تو وہ مجھ سے فوراً رابطہ کرتا اور پوچھتا کہ اتنی بھی کیا مصروفیت ہے کہ ؟ ینگ مین نے رابطہ ہی منقطع کر دیا ۔ وہ اکثر مجھے ینگ مین کے نام سے پکارتا تھا بات کرتے وقت مرحوم کا لہجہ اتنا نرم ہوا کرتا تھا کہ اس سے بات کرتے ہوئے کوئی بھی اپنے آپ کو کمتر محسوس نہیں کرتا تھا۔ غلام رسول آزاد صاحب سایہ دار درخت کی ماند تھے۔ میں نے زندگی میں جب بھی تھکاوٹ محسوس کی تو فوراً اس درخت کے سائے میں بیٹھ کر راحت محسوس کی۔
پر ہمیں اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ زندگی موت کے سائے میں پرورش پاتی ہے،اس کی نشوونما،اس کی ترقیاں،اس کے منصوبے،اس کی پلاننگ،اس کے روز وشب میں نمودار ہونے والے ہنگامے سب اسی اجل کے دائرے میں محصور ہوتے ہیں
زندگی نمودار ہوتی ہے،ابھرتی ہے’، شاہ راہ حیات کےروشن اور تاریک نشیب و فراز سے گذرتی ہے، اور پھر موت کے ہنگاموں میں روپوش ہوجاتی ہے.
کسی مقصد سے بے نیاز ،کسی کارنامے سے بے پروا،ایک بے نام سی رہگذر پر ظاہر ہوتی ہے،اور پانی کے بلبلے کی طرح فنا ہوجاتی ہے،اس کے سفر میں نہ کوئی شناخت ہوتی ہے نہ معرفت،نہ دین کی خبر ہوتی ہے نہ مقصدیت سے شناسائی، انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتاہے کہ اس کارگہِ عالم میں انہیں کیوں لایا گیا اور کیوں اس امانت سے محروم کیا گیا.
لیکن اسی عالم رنگ و بو میں کچھ وجود ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموشی کے ساتھ آنکھیں کھولتے ہیں مگر حیات کے اس سفر میں اپنی خداداد صلاحیتوں،فطری استعدادوں،بے پناہ مشقتوں،مسلسل قربانیوں اور مستقل جاں فشانیوں سے کارناموں کا ایک جہاں آباد کرجاتے ہیں، قدم قدم پر روشنی کا مینار کھڑا کر دیتے ہیں،ان کا ہر نقش قدم آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہوتا ہے،وہ اپنے تعمیری جذبات،اور لافانی خدمات کے لہو سے صحرا کو گلزار کردیتے ہیں،وہ بے مایہ ذروں کی ایسی پرورش کرتے ہیں کہ انہیں آفتاب کی زندگی مل جاتی ہے،نتیجتا ان کے افکار و خیالات،تعلیمات وخدمات کے باعث نہ صرف ان کا وجود بلکہ ارد کا ماحول،اورمعاشرہ بھی روشن ہوجاتاہے۔
سابق ڈائریکٹر پی آئی بی و سابق ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن غلام رسول (آزاد) بڈھانہ 29 فروری 2024 کو انتقال کرگیے ۔
ان کی تدفین اُن کے آبائی گاؤں ہچہ مرگ کپوارہ میں کی گی اور نماز جنازہ بھی وہی پر ادا کیا گیا
مرحوم ایک نامور ادیب، نقاد، معروف سماجی و علمی شخصیت گوجری و اردو کے صف اول کے افسانہ نگار تھے
ان کے انتقال پر کئی ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی ہے۔
کہتے ہیں نا جو نام اپنے مقام و مرتبے کی لاج رکھتا ہے۔ اس کے تفسیری رنگوں کی پہچان آسان ہو جاتی ہے۔ فطرت میں ادب کا روگ پالنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ کیونکہ روح و بدن جلائے بغیر تخلیق جنم نہیں لیتی۔ جیسے فلک پر کہکشاؤں کے جھرمٹ نظر آتے ہیں۔ اسی طرح زمین پر علم و ادب کے لاکھوں ستارے اپنی روشنی بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے قلب و ذہن میں علم و ادب کا نہ ختم ہونے والا چراغ جل رہا ہوتا ہے جس کی روشنی سرحدوں کی پرواہ کیے بغیر دور دور تک پھیلتی ہے ۔ غلام رسول آزاد بڈھانہ اپنے نام میں ایک رہنما، آباد کرنے والا یا پھر بھرا ہونے کی حقیقت چھپائے بیٹھا تھا ۔ غلام رسول بڈھانہ کا تخلص آزاد تھا اور زہنی طور بھی آزاد تھے اُنہوں نے کبھی بھی غلامی نہیں کی اور ہر غلامی کی زنجیر کو توڑ کر آگے بڑھے ۔ یقیناً والدین کی تعلیم و تربیت نے ان کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑے تھے ۔ جنہیں امر ہونے کے لیے محنت شاقہ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا تھا ۔ شخص سے شخصیت کا سانچا یک دم نہیں بنتا بلکہ اس
حقیقت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وقت، محنت، مطالعہ، تجسس اور خدا کے فضل کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اپنی شخصیت کو جاذب نظر بنانے کے لیے ایک طویل ریاض و سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ تب کہیں جا کر انسان کو وہ مقام و مرتبہ حاصل ہوتا ہے جس کے لیے اس نے کئی سالوں کا چلہ کاٹا ہوتا ہے۔
ان کی شخصیت کے خد و خال میں ایسے نگینے موجود ہیں جن کی کشش و خوبصورتی کا یہ عالم تھا کہ نگاہ پڑتے ہی کوئی اس پر اپنی توجہ مرکوز کر دیتا ہے۔ جیسے قدرت نے ہر پھل کا ذائقہ اور رنگ منفرد بنایا تھا ۔ اسی طرح ہر انسان کی عادات و کردار بھی فرق فرق ہے۔ انسان کا ظاہر و باطن جب تک ایک نہیں ہو جاتے ہیں اس وقت تک اس کی شخصیت کا باغیچہ نہیں کھلتا۔
بے شک علم و ادب ایک ایسی میراث ہے جو تسلسل کے ساتھ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی ہے زندگی انھیں ادبی سطور کے درمیان اپنے ہونے کا پتہ دیتی ہے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس سے ہٹ کر زندگی اپنا وجود نہیں رکھتی منشائے لفظ یہ ہے کہ ادبی اسلوب میں زندگی کو اس قرینے سے پیش کیا جاتا ہے کہ گذرتے وقت کے ساتھ یہ ایک اثاثے کی طرح ہمیں عزیز ہو جاتی ہے۔
ادب خواہ کسی بھی زبان کا ہو اس بات پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے اگر نظریات کی تشکیل میں ایک اہم کردار کیا ہے تو یہ بھی ایک سچ ہے کہ اس نے روایتی نظریات کی تردید بھی کی ہے۔ سچ ہی کہتے ہیں کہ ادب زندگی کے ہر رخ کا آئینہ دار ہوتا ہے اور یہ زندگی کے کم و بیش سارے ہی شعبوں میں اصلاح کا فریضہ سر انجام دیتا ہے خواہ وہ افسانہ نگاری کی صورت میں ہو یا شاعری ، ترجمہ نویسی ، اور تنقید نگاری کی شکل میں ہو اس کے ذریعے لکھاری اپنے ان احساسات کو قلمبند کرنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ تجربات و مشاہدات اور مطالعوں کے ذریعے اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں اس تناظر میں یہ بات بنا کسی رد و کدح کے کہی جا سکتی ہے کہ ایک لکھاری کسی بھی معاشرے کا ایک قیمتی اثاثہ ہوتا ہے اس کے نظریات و تجربات کو جاننے کی تگ و دو کرنا معاشرتی و انفرادی ارتقاء کا ضامن ہے۔
غلام رسول بڈھانہ کی وفات بڑا نقصان ہے اور اس خلا کو پر کرنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے۔
مرحوم ایک بہترین لکھاری تھے اور بہترین لکھاری وہی ہوتا ہے جو زمانے میں پیش آمدہ واقعات و حادثات کو پیشگی طور پر محسوس کر کے اس کے سد باب کی نہ صرف نشاندھی کرتا ہے بلکہ اس کے فروغ پانے کی صورت میں پیدا ہونے والے منفی مضمرات کو بھی بیان کرتا ہے۔ جو ادب کی تخلیق کسی بار گراں کی طرح نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر انجام دیتا ہو۔
اور وہ خوبی غلام رسول بڈھانہ میں نظر آتی تھی
وہ ادب مضمون نگاری، خاکہ نگاری، ترجمہ نگاری اور دیگر صورتوں میں نمو پاتا رہا ادب کی تاریخ میں ایسی بیشتر شخصیات گذری ہیں جنھیں ان تمام صنف ادب پہ کمال حاصل تھا اب بھی کئی ایسی نابغہء روزگار ہستیاں ہیں جنھوں نے ادب کی تمام اصناف میں طبع آزمائیوں کے لئے خود کو وقف کر رکھا ہے ان میں سے ایک نام مرحوم غلام رسول بڈھانہ کا ہے ان کے آباء و اجداد کپوارہ کی مٹی ہچہ مرگ سے تعلق رکھتے تھے تقسیم ہند کے بعد مرحوم غلام رسول آزاد سرینگر منتقل ہوئے
غلام رسول آزاد صاحب ہمہ جہت صلاحیتوں کی حامل شخصیت تھے جنھوں نے افسانوں، ترجمہ نگاری میں اپنی پہچان کو مسلم بنانے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ اگرچہ ان کا تعلق مختلف شعبۂ سے رہا لیکن ان کے ادبی ذوق نے انھیں ادب کی بساط پر ایک کامیاب مہرہ بنا کر ہی چھوڑا
بڈھانہ صاحب ایمان و عمل کے سرمائے کے ساتھ رخصت ہوگئے، مگر اس طرح کہ پوری علمی دنیا کو اشک بار کرگئے اور ایک کامیاب اور قابل رشک زندگی کی یہی علامت ہے کہ وہ دنیا والوں کے دلوں میں اپنے کرداروں کی بدولت اس طرح گھر کر جائے کہ اس کی جدائی ہر طرف ماتمی کیفیت پیدا کرجائے۔ دعا کرتا ہوں اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں مقام عطا کرے ۔






