جموں وکشمیرمیں ترقی اور خوشحالی نئی اسکیموں سے ممکن
جموںوکشمیرگذشتہ 70 برسوں سے غربت اور افلاس کی چکی میں پس رہا تھا کیونکہ اس پر صرف سیاست کی جارہی تھی تاہم موجود ہ سرکار اس خطہ کی ترقی اور خوشحالی پر وعدہ بند ہے اور حکومتی سطح پر ایسی نئی اسکیمیں رائج کی جارہی ہیں جس سے یہاں کی ترقی اور خوشحالی ممکن بن رہی ہے ۔غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگوں کے ایسی اسکیمیں متعارف کی جارہی ہیں جس سے غریب عوام راحت محسوس کررہی ہے ۔بی پی ایل طبقہ سے وابستہ افراد کوماہانہ بنیادوں پر ان کے بنک کھاتوں میں کسان فنڈ یا دوسرے فنڈس کے تحت 2ہزار روپے جمع ہوتے رہتے ہیں ۔بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کے خاتمہ کے لئے سخت پالیسیاں ترتیب دی جارہی ہے اور صاف وشفاف ماحول کو قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سنجیدہ نوعیت کے فیصلہ کے بعد خاندانی راج کا خاتمہ اور مفاد پرست سیاستدانوں کی بولتی بند ہوگی ۔جنہوں نے ستر برسوں کے دوران لوگوں کو سبزدکھائے تھے لیکن زمینی سطح پر لوگوں کی خیر خواہی کےلئے کوئی کام نہیں کیا جارہے ۔جس میں عام لوگوں کا استحصال ہورہا تھا اب آخری سانسیں لے رہا ہے ۔آجکل سرکاری ملازمین وافسران کی ڈیوٹیوں کو یقینی بنانے کےلئے ایسے سخت اقدام اٹھائے جارہے ہیں کہ ہر کوئی ملازم وافسر جس میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس تک نہ تھا خادمین قوم ہونے کا دعویٰ ہی نہیں بلکہ عوام کی خدمت کو انجام دینے میں متحرک ہوگئے ہیں کیونکہ یہ طے ہواہے کہ جو بھی سرکاری ملازم یا افسراپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ذرا بھی کوتاہی برتے گا تو اس کے خلاف بغیر کسی تاخیر کے کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ روز گار کے مواقعے ووسائل پیدا کرنے کی خاطر مرکزی سرکار اس خطہ میں نئے کارخانوں اور صنعتی یونٹوں کے قیام کےلئے موثر اور ٹھوس اقدام اٹھارہی ہے جبکہ گذشتہ کئی برسوں کے دوران شعبہ سیاحت کو فروغ دینے میں سرکار نے جس طرح مثبت اقدام اٹھائے اس سے جہاں یہ شعبہ دنیا کی دوسرے ممالک اور ریاستوں میں مستحکم ہے اسی طرح وادی کشمیر میں سیاحت آگے بڑھ رہی ہے اوراسی تگ دو کا نتیجہ ہے کہ امسال ملکی وبیرون ممالک میںسیاحوں کا رش رہا جس سے گھوڑا والوں ودیگر سواروں کے روز گار کے وسائل پیدا ہوئے ہیں۔یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ سرکاری سطح پر جو اسکیمیں متعارف کی جارہی ہیں وہ عا م لوگوں کی خوشحالی کی ضمانت ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ زمینی سطح پر ان اسکیموں کو متعارف کرنے اور سرکار کے لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانے کے لئے افسران اپنی کوششیں جاری رکھیں تاکہ عوام کے مسائل ومشکلات کا اسی طرح ازالہ ہوجائے جس طرح سرکار موثر اقدام اٹھارہی ہے ۔






