نئی دہلی// دنیا کی معروف بروکریج کمپنی مورگن اسٹینلے نے اب ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو میں 0.40 فیصد کمی کردی ہے۔ نومورا کے بعد مورگن اسٹینلے نے پیر کے روز مالی سال 2022-23 کے لیے ملک کی ترقی کی پیشن گوئی کو 7.6 فیصد سے کم کر کے 7.2 فیصد کر دیا۔مورگن اسٹینلے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2022-23 میں ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 7.2 فیصد رہے گی۔
بروکریج فرم نے کہا کہ عالمی تجارت میں سست روی اور مشکل معاشی حالات کی وجہ سے دنیا کی بڑی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ اس کے پیش نظر ہندوستان کی جی ڈی پی گروتھ کے پہلے تخمینے میں کمی کی گئی ہے۔ تاہم، مورگن اسٹینلے نے اگلے سال کے لیے سالانہ جی ڈی پی کی شرح نمو 6.4 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔بروکریج فرم کا ہندوستان کی شرح نمو کا تخمینہ ایسے وقت میں آیا ہے جب مالی سال 2022-23 کی پہلی (اپریل-جون) سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 4.2 فیصد رہی ہے، جو کہ ریزرو بینک آف انڈیا(آربی آئی) کے اپڈیٹیڈ تخمینے کے مطابق ہے۔
دریں اثنا، بروکریج فرم نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے وقت میں ہندوستان میں افراط زر کی شرح میںمزید نرمی آئے گی۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں مورگن اسٹینلے کی چیف اکانومسٹ اپاسنا چاچڑا نے کہا ہے کہ اجناس کی قیمتوں میں نرمی اور گھریلو اشیائے خوردونوش کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہمیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں افراط زر میں مزید کمی واقع ہوگی۔جاپانی بروکریج فرم نومورا نے سال 2023 کے لیے ہندوستان کے لیے اپنی جی ڈی پی کی شرح نمو 5.4 فیصد سے کم کر کے 4.7 فیصد کر دی ہے۔
تاہم، اس سے قبل فِچ ریٹنگس نے مالی سال 2022-23 کے لیے اپنی اقتصادی ترقی کی پیشن گوئی کو کم کر کے 7.8 فیصد کر دیا تھا۔عالمی ریٹننگ ایجنسی ایس اینڈ پی نے رواں مالی سال میں 7.3 فیصد کی شرح نمو کا تخمینہ لگایا تھا۔ آر بی آئی نے موجودہ منظر نامے میں جی ڈی پی کی شرح نمو 7.2 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔






