کولگام…انفو…وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے چاولگام میں 50 بستروں والے اِنٹگریٹیڈ آیوش ہسپتال کا اِفتتاح کیا۔ہسپتال تقریباً 7.40 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ۔یہ ہسپتال روایتی طریقہ علاج کو جدید طبی سہولیات کے ساتھ فروغ دینے کی حکومتی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔اِس موقعہ پر رُکن اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی، ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام شہزاد عالم، ڈائریکٹر آیوش، اے ڈی سی کولگام، سی ایم او کولگام، نوڈل آفیسر آیوش، سی ای او کولگام، ضلعی اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران اور بڑی تعداد میں مقامی لوگ موجود تھے۔وزیر صحت و طبی تعلیم نے اِفتتاحی تقریب کے بعد اَپنے خطاب میں عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے بنیادی سطح تک معیاری صحت خدمات کی فراہمی کے عزم کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ آیوش نظام کو روایتی دوائیوں کے ساتھ ضم کرنے سے نہ صرف علاج کے اختیارات وسیع ہوں گے بلکہ وقتی تجربہ شدہ مقامی شفا یابی کے طریقوں کو بھی بحال اور ادارہ جاتی بنایا جائے گا۔اُنہوں نے کہا،”حکومت ہر شہری کو مساوی، جامع اور سستی صحت سہولیات فراہم کرنے کے اپنے مشن میں پُر عزم ہے۔ کولگام میں اس اِنٹگریٹیڈ آیوش ہسپتال کا افتتاح ہمارے اس ویژن کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک مضبوط اور متنوع صحت کا نظام قائم کیا جائے جو روایت کا احترام کرے اور جدیدیت کو اپنائے۔“وزیر موصوفہ نے مزید کہا کہ یہ نیا ہسپتال آیوروید، یوگا، یونانی اور ہومیوپیتھی (اے وائی یو ایس ایچ) کے تحت جامع اور مربوط علاج فراہم کرے گا جس سے کولگام اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں کو آسان اور سستی طبی سہولیات کو یقینی بنایا جائے گا۔اُنہوں نے احتیاطی صحت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آیوش طرزِ زِندگی کی بہتری، دائمی امراض کے علاج اور قوتِ مدافعت میں اضافے میں اہم کردار اَدا کرتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ہسپتال صحت سے متعلق بیداری، کمیونٹی پروگراموں اور تربیتی کی سرگرمیوں کا مرکز بھی بنے گا۔وزیر صحت نے کہا کہ یہ 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال جدید سہولیات سے آراستہ ہے جن میں آرام دہ وارڈوں، خصوصی او پی ڈی، پنچ کرما تھراپی یونٹس، تشخیصی سہولیات، یوگا و ویلنس مراکز اور مشاورتی کمرے شامل ہیں تاکہ مریضوں کو معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔اُنہوں نے کہا کہ دُور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ اُنہوں نے یقین دِلایا کہ ہسپتال کی مو¿ثر کارکردگی کے لئے ضروری وسائل اور عملہ فراہم کیا جائے گا۔وزیر موصوفہ نے مزید کہا کہ ہسپتال تک اپروچ رود کی میکڈیمائزیشن اور بیرونی حصوں کی خوبصورتی کے دیگر کام بھی جلد مکمل کئے جائیں گے۔اُنہو نے اِس بات پر زور دیا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران شعبہ صحت کو اوّلین ترجیح دی ہے۔رُکن قانون ساز اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے اَپنے خطاب میں صحت شعبے میں طبی عملے کی خدمات کو سراہا۔ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام شہزاد عالم اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے ضلع میں ہیلتھ کیئر نیٹ ورک کی ترقی کا خاکہ پیش کیا اور مزید کہا کہ ضلع میں لوگوں کے لئے صحت سہولیات کا ایک مضبوط انفراسٹرکچر قائم کیا گیا ہے۔






