نئی دہلی//وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کرپٹو کرنسی کو لے کر پارلیمنٹ میں ایک بار پھر بڑا بیان دیا ہے۔ سیتارمن نے پیر کو لوک سبھا میں کہا کہ حکومت کرپٹو کرنسیوں پر پابندی لگانا چاہتی ہے ، لیکن کسی بھی موثر اصول یا پابندی کے لیے دوسرے ممالک کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔وزیر خزانہ نے لوک سبھا میں تھول تھروماولون کے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے کرنسی اور مالیاتی استحکام پر کرپٹو کرنسی کے غیر مستحکم اثر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آر بی آئی نے پہلے ہی اس پر قانون بنانے کی سفارش کی ہے۔
آر بی آئی نے اپنی سفارش میں کہا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے سخت قوانین بنانے کے ساتھ ساتھ اس پر پابندی عائد کی جانی چاہئے۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا میں روپے کی قدر میں کمی کا معاملہ بھی گرما گرم رہا۔ اس بارے میں پوچھے گئے ایک اور سوال کے تحریری جواب میں وزیر خزانہ نے ہندوستانی کرنسی روپے کی گراوٹ کیلئے عالمی مسائل کو ذمہ دار قرار دیا۔ سیتارامن نے ایوان کو بتایا کہ روپے کی قدر میں کمی کا عالمی عنصر روس-یوکرین کی جاری جنگ اور بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے۔
درحقیقت نرملا سیتا رمن کا یہ تبصرہ ایسے قیاس آرائیوں کے درمیان آیا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں کریپٹو کرنسیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایسا کوئی بل ابھی تک متعارف کے لیے درج نہیں کیا گیا ہے۔ کریپٹو کرنسی کے لیے بل کے متعارف ہونے سے پہلے، اب سب کی نظریں اس کے لیے تیار کیے جانے والے حکومتی مسودے پر لگی ہوئی ہیں۔کرپٹو کرنسی ایک غیر حقیقی کرنسی ہے۔ دراصل یہ ایک ڈیجیٹل اثاثہ ہے ، جسے خفیہ کاری کے ذریعے محفوظ لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔






