ڈھاکہ//بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اس سال ستمبر میں طے شدہ ہندوستان کے آئندہ دورے کے دوران روہنگیا کی وطن واپسی کے ایجنڈے میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ بنگلہ دیش کے سکریٹری خارجہ مسعود بن مومن نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر دو طرفہ دورے پر ہندوستان پہنچنے والی وزیر اعظم حسینہ روہنگیا کی بنگلہ دیش غیر قانونی نقل مکانی سے پیدا ہونے والے مسائل جیسے میانمار کی طرف سےبنیاد پرستی میں اضافہ، منشیات کی اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کی انسانی اسمگلنگکا مسئلہ اٹھائیں گی۔
اس کے علاوہ روہنگیوں کی وطن واپسی کا مدعا ان کے ایجنڈی میں خاص طور پر شامل ہوگا۔مجھے یقین ہے کہ جب وزیر اعظم شیخ حسینہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گی تو وہ یہ مسئلہ بھی اٹھائیں گی کہ ہندوستان ہماری مدد کیسے کر سکتا ہے۔ غور طلب ہے کہ 25 اگست 2017 سے اب تک میانمار سے 10 لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین بنگلہ دیش فرار ہو چکے ہیں۔ روہنگیا پناہ گزینوں کا یہ بحران حالیہ تاریخ میں لوگوں کی سب سے بڑی، تیز ترین نقل و حرکت میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے، ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ نہ صرف انسانی ہمدردی کی کوششوں کے سلسلے میں ہماری مدد کرے جو کہ دس لاکھ سے زیادہ روہنگیا کی اس بڑی آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار ہیں بلکہ ساتھ ہی ہمیں اس مسئلے کے لیے کچھ پائیدار حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس واحد قابل عمل حل روہنگیا کی راکھین ریاست میں واپسی ہے جہاں سے وہ (میانمار) آئے تھے۔





