کانگو//ہندوستانی فوج نے پیر کے روز کانگو میں بعض سویلین مسلح گروپوں کی طرف سے اپنے آپریٹنگ اڈوں اور وہاں لیول III ہسپتال کو لوٹنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ دراصل کانگو میںگذشتہ دنوں اقوام متحدہ کے امن مشن میں صورتحال پیدا ہوئی تھی جس میں بعض سویلین مسلح گروہوں نے بڑے پیمانے پر اقوام متحدہ کے اثاثوں کو لوٹنے کی کوشش کی تھی۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ اقوام متحدہ کے بعض دفتروں کے احاطے میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے اور صورت حال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ہندوستانی فوجی اہلکار نے بتایا کہ ہندوستانی امن دستوں نے اپنی تعیناتی کے مقامات پر اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔ اقوام متحدہ کے مشن میں تعینات ہندوستانی فوج کے دستے اقوام متحدہ کی ایک کثیر جہتی امن فوج کا حصہ ہیں جو اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے مطابق تنازعات سے متاثرہ خطے کے استحکام میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ قبل ازیں، ہندوستانی فوج اور اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے دیگر قومیتوں کے دستوں نے 22 مئی کو کانگو میں کانگولیس آرمی اور کانگو میں اقوام متحد کے مشن کی پوزیشنوں پر مسلح گروپ کے بلا اشتعال حملے کو روک دیا۔
آپ کو بتا دیں کہ ہندوستانی فوج دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے 14 میں سے آٹھ مشنوں میں اپنی موجودگی کے ساتھ اقوام متحدہ کی امن فوج میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس وقت اقوام متحدہ کے جھنڈے کے نیچے چیلنجنگ حالات میں 5,400 سے زیادہ فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ جمہوری جمہوریہ کانگو، لبنان، جنوبی سوڈان، گولان ہائٹس، شام، مغربی صحارا، ابی، اور قبرص میں اقوام متحدہ کے مشنز میں ہندوستانی فوج کی بڑی موجودگی ہے۔ بھارت اقوام متحدہ کی عبوری سیکورٹی فورس برائے ابی میں انفنٹری بٹالین گروپ بھی تعینات کر رہا ہے۔ ہندوستان نے اب تک 15 فورس کمانڈرز، دو ملٹری ایڈوائزر، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ایک ڈپٹی ملٹری ایڈوائزر، دو ڈویژنز کمانڈرز، اور اقوام متحدہ کے مختلف مشنوں میں آٹھ ڈپٹی فورس کمانڈر فراہم کیے ہیں۔






