واشنگٹن//اگرچہ امریکہ میں اسقاط حمل کے بارے میں رائے عامہ منقسم ہے، لیکن امریکی تھنک ٹینک پیو کے ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکہ میں 61 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اسقاط حمل ہمیشہ یا زیادہ تر معاملات میں قانونی ہونا چاہیے، جب کہ 37 فیصد افراد نے اسے غیر قانونی قرار دینے کی رائے دی۔
لٹل راک، آرکنساس میں اسقاط حمل کے ایک کلینک نے عدالت کا فیصلہ آن لائن شائع ہوتے ہی مریضوں کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے۔ کلینک کے عملے نے خواتین کو بلایا اور بتایا کہ انہیں دیا گیا وقت منسوخ کر دیا گیا ہے۔ آرکنساس ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں ٹرگر قانون نافذ ہوا اور اسقاط حمل پر فوری پابندی لگا دی گئی۔
واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے گزشتہ جمعہ کے روز ایک تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے اسقاط حمل کے لیے آئینی تحفظ کو ختم کردیا تھا۔ جس کے بعد امریکہ میں خواتین نے بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے عدالتی فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے وہ کام کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا، ہم ریاستوں میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں ۔
طرابلس،لیبیا میں مسلسل بجلی کٹوتی، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سیاسی تعطل کے خلاف ملک کے مشرقی شہر توبروک میں لوگوں نے پارلیمنٹ پر دھاوا بول دیا اور عمارت کے کچھ حصوں کو آگ لگا دی۔آن لائن پوسٹ کی گئی تصاویر میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب گھنا دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔ مظاہرین نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کی کال بھی دی ہے۔عبوری حکومت کے سربراہ عبدالحمید دبایبہ نے عوام کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے تمام اداروں کو تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔






