سرینگر//کے این ایس//اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ اْن کی جماعت اپنی پالسیوں اور حمکت عملی کے لحاظ سے جموں کشمیر کی روایتی سیاسی جماعتوں سے بالکل مختلف ہے۔ اْن کا کہنا ہے کہ اپنی پارٹی کی پالیسی حقیقت پسندانہ اور عوام دوست ایجنڈے کی اساس پر قائم ہے۔ کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ جموں کشمیر کی روایتی سیاسی جماعتوں، خواہ وہ کسی بھی سیاسی نظریے کی حامل رہی ہوں، نے ہمیشہ عوام کا سیاسی استحصال کیا ہے۔ بخاری نے اس انٹرویو میں حالیہ شہری ہلاکتوں، مجوزہ اسمبلی انتخابات، اور لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ کے کام کاج کے علاوہ کئی اہم مسائل پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
پیش ہیں انٹرویو کے چند اقتباسات:
کے این ایس: آپ کشمیر کی موجودہ صورتحال، بشمول حالیہ ہلاکتوں کو کیسے دیکھتے ہیں؟
سید الطاف بخاری: جموں کشمیر فی الوقت ایک ہنگامہ خیز دور سے گزر رہا ہے۔ وادی میں سیاحوں کی بھاری آمد کو یہاں کی نارملسی کا پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ حالانکہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کی سیاحوں کی بھاری آمد سے ہمارے سیاحتی شعبے، جس پر لاکھوں کنبوں کے براہ راست یا بالواسطہ روزگار کا انحصار ہے، کو ایک نئی جلا بخشی ہے۔ تاہم سیاحت وادی میں نارملسی کی علامت نہیں ہے۔ جہاں تک شہری ہلاکتوں کے واقعات کا تعلق ہے، میرا اس ضمن ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ تشدد اس خطے میں امن اور استحکام کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ کسی بھی متمدن معاشرے میں معصوم لوگوں کی ہلاکتوں کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ہے۔ معصوم شہریوں کو قتل ہوتا ہوا دیکھنا بہت درد ناک ہے۔ اس طرح کی بے مقصد قتل و غارتگری کی مذمت کرنے کے لئے جو بھی الفاظ استعمال کئے جائیں کم ہیں۔ ان بزدلانہ حرکتوں میں جو بھی ملوث ہوں، اْنہیں اْن کے کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔
کے این ایس: جموں کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
سید الطاف بخاری: موجودہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے جموں کشمیر اور اسکے عوام کے مفادات کو بہت نقصان سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ایک جمہوری ملک میں اْس خطے کی صورتحال کتنی خراب ہو ہوگی، جو براہ راست صدارتی انتظام میں ہو۔ حکومت میں عوام کے نمائندوں کی عدم موجودگی کا مطلب ہی یہ ہے کہ عوام فی الوقت بے اختیار ہیں۔
کے این ایس: کیا آپ کو لگتا ہے کہ اسمبلی انتخابات جلد ہوں گے؟
سید الطاف بخاری: اسمبلی انتخابات کے انعقاد میں غیر ضروری تاخیر کی وجہ سے عوام کو مصائب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں لوگوں کا دم گھٹ رہا ہے۔ میرے خیال سے حکومت ہند کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے اور مجھے اْمید ہے کہ مرکزی سرکار اور الیکشن کمیشن اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں گے۔
کے این ایس: کیا آپ نے حد بندی کمیشن کی حتمی رپورٹ کو تسلیم کرلیا ہے؟
سید الطاف بخاری: میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ حد بندی کمیشن کی رپورٹ میں کئی نقائص ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس رپورٹ کو ایک مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لئے مرتب کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کی سفارشات کی رو سے جموں کشمیر کے اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی جس انداز میں حد بندی کی گئی ہے، وہ غیر منطقی ہے۔ مثال کے طور پر دور افتادہ راجوری کو اننت ناگ کے حلقے میں شامل کیا گیا ہے اور کیرن کو کپوارہ کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔ نئی حد بندی کرنے کا مقصد عوام کو جمہوریت کے فوائد سے مستفید کرنا ہونا چاہیے تھا، لیکن حد بندی کمیشن کی حتمی رپورٹ دیکھ کر نہیں لگتا ہے کہ اس میں عوام کے جمہوری مفادات کا خیال رکھا گیا ہے۔
کے این ایس: جموں کشمیر میں لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ کی کارکردگی کے حوالے سے آپ کے کیا خیالات ہیں؟
سید الطاف بخاری: موجودہ حکومت کی کارکردگی جموں کشمیر کے عوام کی منشا اور اْمیدوں کے بالکل برعکس ہے۔
موجودہ سرکار کی ناقص کارکردگی کا اندازہ اس کے اقدامات کے نتیجے میں سرکاری عہدوں کے خاتمہ، قدرتی وسائل کی بولی لگائے جانے، غیر مقامی ٹھیکیداروں کو مائنگ کے ٹھیکے دینے، انڈسٹری پالیسی کے تحت زمینوں کو لوٹنے، کے واقعات اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری، بنیادی سہولیات کے فقدان اور اس طرح کے مختلف معاملات دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ عوام کی جانب سے منتخب کی جانے والی حکومت کی اگر کارکردگی اچھی نہ بھی ہو، تب بھی وہ گورنر راج سے بہتر ہوتی ہے۔ ایک عوامی حکومت کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا ہے۔
کے این ایس: اپنی پارٹی یہاں کی دوسری سیاسی جماعتوں سے کیسے مختلف ہے؟ اگر اپنی پارٹی کی حکومت قائم ہوجاتی ہیتو اس حکومت کی خاصیت کیا ہوگی؟
سید الطاف بخاری: اپنی پارٹی حکمت عملی اور پالیسی کے لحاظ سے جموں کشمیر کی روایتی سیاسی جماعتوں سے بالکل مختلف ہے۔ ہماری پالیسی کی اساس عوام دوست ایجنڈا اور حقیقت پسندانہ سیاست ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ روایتی سیاسی جماعتیں بلا امتیاز سیاسی نظریات ہمیشہ عوام کا استحصال کرتی آئی ہیں۔ اس کے برعکس اپنی پارٹی جمہوری اصولوں کے عین مطابق ایک ایسے نظام کے قیام کی بات کرتی ہے، جس میں شفافیت اور جوابدہی ہو۔آپ نے یہ بات محسوس کی ہوگی کہ اپنے قیام سے لیکر اب تک اپنی پارٹی نے کبھی بھی صیح کو غلط اور غلط کو صیح نہیں کہا ہے۔ مثال کے طور پر دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد تمام روایتی سیاسی جماعتیں متحد ہوگئیں اور عوام کو یہ آئینی دفعہ بحال کرانے کا جھوٹا وعدہ کرکے ڈی ڈی سی انتخابات میں کود پڑے اور اس طرح سے اپنے نجی اور سیاسی مفادات حاصل کئے۔ اپنی پارٹی اس طرح کی جھوٹی سیاست میں یقین نہیں رکھتی ہے۔ ہم بھی جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی چاہتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم عوام کو اس کے نام پر فریب دیں۔






