بنگلورو// نائب صدر جمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج ملک میں خواتین کی آزادی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہماری تہذیبی اقدار مختلف شعبوں میں خواتین کی مساوی شرکت کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں لیکن بہت سے ایسے شعبے ہیں جن میں خواتین کو اپنی پوری صلاحیتوں کا ادراک کرنا ابھی باقی ہے۔آج بنگلورو میں ماؤنٹ کارمل کالج کی پلاٹینم جوبلی تقریبات کا افتتاح کرنے کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے حکومتوں کی مسلسل کوششوں کے ذریعے خواتین کی تعلیم کو مزید آگے بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی خواتین کو موقع ملا، انہوں نے ہمیشہ ہر شعبے میں خود کو ثابت کیا ہے۔یہ دیکھتے ہوئے کہ ہندوستانی تمام شعبوں میں اپنے آپ کو لیڈر ثابت کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے عروج کو عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ مذہبی عدم رواداری کے مسئلہ کو چھوتے ہوئے جناب نائیڈو نے اپیل کی کہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے اور یہ کہ جب کوئی شخص اپنے مذہب پر فخر کرسکتا ہے اور اس پر عمل کرسکتا ہے، کسی کو بھی دوسروں کے مذہبی عقائد کی تذلیل کرنے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سیکولرازم اور دوسروں کے خیالات کے تئیں رواداری ہندوستانی اخلاقیات کا بنیادی حصہ ہے اور یہ کہ چھٹپٹ واقعات تکثیریت اور شمولیت کی اقدار کے تئیں ہندوستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔تعلیم میں ہندوستان کے شاندار ورثے کا تذکرہ کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ قدیم زمانے میں تعلیم کے میدان میں ہندوستان کی شاندار شراکت نے اسے ‘ وشوا گرو کا درجہ حاصل کیا۔ قدیم ہندوستان کی ممتاز خواتین اسکالرز جیسے گارگی اور میتری کے ناموں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قدیم زمانے سے ہی خواتین کی تعلیم پر واضح زور دیا جاتا تھا۔
انہوں نے کرناٹک کے بہت سے ترقی پسند حکمرانوں اور مصلحین کی بھی تعریف کی جیسے اٹیمبے اور سووالادیوی، جو سیکھنے کے عظیم سرپرست تھے، اور ویرشیوا تحریک جس نے تعلیم کے ذریعے خواتین کی آزادی پر توجہ مرکوز کی۔ایم سی سی کی کئی نامور خواتین سابق طالب علموں کے ناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے نائب صدر نے کالج کی تعریف کی کہ وہ آزادی کے بعد سے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تعلیم میں صنفی تفاوت کو ختم کرکے تبدیلی کا محرک بننے کے لیے کام کرتی ہے۔اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ کام کی جگہیں تیز رفتاری سے تبدیل ہو رہی ہیں، جناب نائیڈو نے مصنوعی ذہانت سے لے کر ڈیٹا اینالیٹکس تک طلباء کی مہارتوں کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تعلیم کے لیے مستقبل کے نقطہ نظر کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “موثر مواصلاتی مہارتوں کا حامل ہونا بھی اتنا ہی اہم ہے۔






