نئی دلی//ہندوستان کی جانب سے برکس انسداد بدعنوانی وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج( سائنس اور ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان بدعنوانی اور بے حساب رقم کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس کی پیروی میں، انہوں نے کہا، مودی حکومت کی طرف سے گزشتہ 8 سالوں میں بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ملک کے پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1988 کا حوالہ دیا، جس میں مودی حکومت نے 30 سال بعد 2018 میں ترمیم کی تھی جس میں کئی نئی دفعات متعارف کرائی گئی تھیں جن میں رشوت دینے کے ایکٹ کو مجرم قرار دینے کے علاوہ رشوت لینے کے ساتھ ساتھ رشوت دینے کے قانون کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ یہ قانون افراد کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ اداروں کی طرف سے اس طرح کی کارروائیوں کے لیے مؤثر روک تھام کیلئے بنایا گیا ہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ لوک پال کا ادارہ چیئرپرسن اور ممبران کی تقرری کے ذریعے فعال ہو گیا ہے۔ لوک پال کو قانونی طور پر بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ، 1988 کے تحت سرکاری ملازمین کے خلاف مبینہ جرائم کے سلسلے میں براہ راست شکایات وصول کرنے اور ان پر کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے برکس ممالک کے وزراء اور معزز مندوبین کو ماضی قریب میں بھارت کی طرف سے کی گئی مختلف انسداد بدعنوانی کوششوں سے آگاہ کیا جیسے آئی سی ٹی ٹولز کے وسیع استعمال کے ذریعے ای گورننس کا موثر نفاذ جس سے بدعنوانی کا دائرہ کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ایم سی اے 21 )کارپوریٹس اور کاروباری گھرانوں کے ای-اقدامات کے لیے(، مکمل طور پر خودکار انکم ٹیکس کی تعمیل، تجارتی ٹیکس کی تعمیل، پاسپورٹ اور ویزا خدمات، ڈیجی لاکر، پنشن، آدھار ادائیگی برج (اے پی بی) کے ذریعے براہ راست بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) جیسے اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامن سروسز سینٹرز وغیرہ ای۔گورننس کے مختلف اقدامات کے تحت شروع کی گئی کامیاب ای۔گورنمنٹ کوششوں میں سے چند ہیں۔






