نئی دلی//نائب صدر جمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج ملک میں تھیلیسیمیا اور سکل سیل انیمیا جیسی جینیاتی بیماریوں کے بڑے بوجھ سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کی خواہش ہے کہ ریاستیں جینیاتی عدم توازن کی جلد شناخت اور انتظام کے لیے بچوں کی بڑے پیمانے پر اسکریننگ کریں۔
آج حیدرآباد میں تھیلیسیمیا اینڈ سکل سیل سوسائٹی (ٹی ایس سی ایس) میں ریسرچ لیبارٹری، ایڈوانسڈ ڈائیگناسٹک لیبارٹری اور دوسرے بلڈ ٹرانسفیوژن یونٹ کا افتتاح کرنے کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے پرائیویٹ سیکٹر اور رضاکار تنظیموں پر زور دیا کہ وہ جینیاتی بیماریوں سے نمٹنے میں حکومت کی کوششوں کی تکمیل کریں۔
اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ان جینیاتی حالات کے لیے دستیاب علاج کے اختیارات – بون میرو ٹرانسپلانٹیشن یا باقاعدگی سے خون کی منتقلی – بچے کے لیے بہت زیادہ خرچ اور تکلیف دہ ہیں، جناب نائیڈو نے تھیلیسیمیا اور سکل سیل انیمیا کے صحت کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر پر زور دیا۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بھارت میں ہر سال تقریباً 10-15 ہزار بچے تھیلیسیمیا کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، نائب صدر نے کہا کہ ان جینیاتی بیماریوں کے بارے میں بیداری کی کمی ان کی روک تھام اور جلد تشخیص اس میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
لہذا انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں، ڈاکٹروں، اساتذہ، عوامی شخصیات، کمیونٹی لیڈرز اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ تھیلیسیمیا اور سکل سیل کی بیماری کے بارے میں بیداری پیدا کریں ۔ ان جینیاتی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنے کے لیے ٹی ایس سی ایس کی ستائش کرتے ہوئے، جناب نائیڈو نے کہا کہ و ہ چاہتے ہیں کہ بالخصوص پرائیویٹ سیکٹر دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں اور دیہی علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال کو سب کے لیے قابل رسائی بنانے کی خاطر مزیدتشخیص اور علاج کی سہولیات قائم کریں۔ملک میں جینیاتی عدم توازن کی خرابیوں کو صحت سے متعلق ایک بڑی تشویش بتاتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ اس سے متاثرہ خاندانوں پر بھاری اقتصادی اور جذباتی بوجھ پڑتا ہے۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بیتا تھیلیسیمیا کا پھیلاؤ بھارت میں 2.9 فیصد سے 4.6فیصد کی حد تک ہے، جبکہ سکل سیل انیمیا قبائلی آبادیوں میں 5 فیصد سے 40فیصد تک معاشرے کے نچلے سماجی و اقتصادی طبقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جینیاتی عدم توازن کا جلد پتہ لگانے سے مریضوں کی کاؤنسلنگ میں مدد ملے گی، اس طرح ایسے دو افراد کی شادی
سے بچا جا سکے گا، جن میں ناقص جینز کے اثرات موجود ہیں، جو ان کے بچوں میں سنگین جینیاتی نقائص کا باعث بن سکتے ہیں۔اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کو زندگی بھر باقاعدگی سے خون کی منتقلی کی ضرورت ہوتی ہے،لہذا جناب نائیڈو نے نوجوانوں کو آگے آنے اور ضرورت مندوں کے لیے خون کا عطیہ کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے تھیلیسیمیا، سکل سیل انیمیا اور دیگر مختلف خون کی کمی کو دور کرنے اور انتظام کرنے کے لیے تفصیلی رہنما خطوط تیار کرنے کے لیے مرکزی وزارت صحت کی بھی تعریف کی۔






