نئی دلی//نیشنل فیملی ہیلتھ سروے۔5 ، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو اور ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم وغیرہ کے تازہ ترین اعداد و شمار حالیہ برسوں کے دوران ملک میں مختلف معیارات پر خواتین اور لڑکیوں کی حالت میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خواتین کی ترقی کی مرکزی وزیر اسمرتی زوبین ایرانی نے آج راجیہ سبھا میں بتایا کہ حکومت ہند قانون سازی اور منصوبہ بندی کی مداخلتوں، پالیسیوں اور پروگراموں کے ذریعے خواتین کو زیادہ بااختیار بنانے کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے جس میں تشدد اور پریشانی کا سامنا کرنے والی خواتین کی مدد کے لیے اسکیمیں شامل ہیں۔
ان میں سے کچھ ون اسٹاپ سینٹر ، خواتین کی ہیلپ لائن اور بہت سی سماجی تحفظ کی اسکیمیں ہیں جیسے پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا ، آنگن واڑی خدمات نوعمر لڑکیوں کے لیے اسکیم، قومی صحت مشن (دیہی اور شہری)، آیوشمان بھارت – پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا، پی ایم اجولا یوجنا، پردھان منتری آواس یوجنا (دیہی اور شہری)، پردھان منتری جن دھن یوجنا ، مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم، قومی سماجی معاون پروگرام شامل ہیں۔پی ایم اجولا یوجنا کے فوائد میں، صحت کی حالت میں بہتری، اندرونی فضائی آلودگی میں کمی، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل پر کم دباؤ، مشقت میں کمی اور خواتین کے لیے وقت کی بچت جس کے نتیجے میں خواتین کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔
ملک میں خواتین پر سماجی تحفظ کی اس طرح کی اسکیموں کا اثر کثیر جہتی ہے جس میں معاشی بااختیار بنانا، اور تعلیم، عزت نفس، حوصلے، اعتماد اور اندرونی طاقت میں بہتری شامل ہے۔ مزید یہ کہ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں خواتین کے خلاف جرائم میں کمی آئی ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق، سروے 4 کے مقابلے میں کئی پیرامیٹرز پر خواتین کی حالت میں بہتری ہے۔ محترمہ ایرانی نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ این سی آر بی کی طرف سے شائع کردہ اعداد و شمار بھی خواتین کے خلاف جرائم میں کمی کے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں جو کہ سال 2020 میں 3,71,503 تھی جب کہ سال 2019 میں یہ تعداد 4,05,326 تھی۔






