نئی دلی// کامرس و صنعت کی وزارت کے وزیر مملکت جناب سوم پرکاش نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت نے براہ راست غیر سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنے کے لئے ایک لیبرل اورشفاف پالیسی شروع کی ہے، جس میں اسٹریٹجک اعتبار سے اہمیت رکھنے والے چند شعبوں کو چھوڑ کر بیشتر شعبوں کو خود کار روٹ کے تحت 100 فیصد ایف ڈی آئی کے لئے کھو ل دیا گیا ہے۔
ایف ڈی آئی پالیسی کے ضابطوں کے تحت مینو فیکچرنگ شعبے میں خود کار روٹ کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ مینوفیکچرنگ سرگرمیاں یا تو سرمایہ کاری کرنے والے ادارے کے ذریعہ سیلف مینوفیکچرنگ ہیں یا قانونی طور پر قابل قبول معاہدے، چاہئے وہ پرنسپل سے پرنسپل ہو، یا پرنسپل سے ایجنٹ کی بنیاد پر ہو، کے ذریعہ کانٹریکٹ مینوفیکچرنگ کی ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ مینو فیکچرر کو سرکاری اجازت حاصل کئے بغیر اپنی مصنوعات کو ای- کامرس سمیت ہول سیل یا خردہ فروخت کرنے کی اجازت ہے۔
ایف ڈی آئی پالیسی اصلاحات سے متعلق سرکاری اقدامات کے نتیجے میں ملک میں ایف ڈی آئی کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 22- 2021 میں بھارت میں اب تک کی سب سے زیادہ ایف ڈی آئی 631050 کروڑ روپے آئی ہے۔ اس کے علاوہ مالی سال 22-2021 میں مینوفیکچرنگ شعبوں میں ایف ڈی آئی ایکوٹی کی آمد 89766 کروڑ روپے (مالی سال 21-2020) سے بڑھ کر 158332 کروڑ روپے ہو گئی ہے، یہ اضافہ 76 فیصد کا ہے۔
بھارت کی مونیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کو افراط زر کی شرح کم کرنے اور چالو کھاتے کا خسارہ (سی اے ڈی) کے بند وبست کے لئے موزوں بنایا گیا ہے۔ اس خاکے کے تحت ابھرتے ہوئے اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے لئے مونیٹری اور مالیاتی انتظامات کئے گئے ہیں۔






