نئی دہلی// لوک سبھا نے ارضیاتی سائنس کے وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ کے ذریعے پیش کئے گئے انڈین انٹارکٹک بل 2022 کو منظوری دے دی ہے۔ اس بل کا مقصد انٹارکٹک ماحولیات کے ساتھ ساتھ انحصار اور متعلقہ ایکو سسٹم کے تحفظ کے لئے بھارت کا اپنا قومی ڈھانچہ تیار کرنا ہے۔بل کے متعلق تقریر کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی(آزادانہ چارج)، وزیر مملکت (آزادانہ چارج)برائے ارضیاتی سائنس ، ایم او ایس، پی ایم او، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاء ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ اس مقصد کانکنی یا غیر قانونی سرگرمیوں سے چھٹکارا پانے کے ساتھ ساتھ خطے کو فوجیوں سے آزاد کرنے کو یقینی بنانا ہے۔
اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ خطے میں کوئی ایٹمی تجربہ؍دھماکہ نہ ہو۔یہ بل انٹارکٹک معاہدہ، ماحولیاتی تحفظ پروٹوکال (میڈرِڈ پروٹوکال)کے لئے انٹارکٹک معاہدہ اور انٹارکٹک سمندری زندگی کے وسائل کے تحفظ پر کنوینشن کے لئے ہندوستان کے نظریے کے عین مطابق ہے۔ڈاکٹر جتندر سنگھ نے بتایا کہ یہ بل ایک منظم قانونی نظام کے توسط سے ہندوستان کی انٹارکٹک سرگرمیوں کے لئے ایک تال میل پالیسی اور قانونی ڈھانچہ مہیا کرتا ہے اور انڈین انٹارکٹک پروگرام کے کامیاب اور متبادل نظام کو چلانے میں مدد کرے گا۔یہ بل انٹارکٹک کے پانی میں بڑھتی ہوئی سیاحت اور ماہی وسائل کی پائیدار ترقی کے نظم میں ہندوستان کی دلچسپی اور سرگرم حصے داری کو بھی آسان بنائے گا۔
ڈاکٹر جتندر سنگھ نے یہ بھی تفصیل سے بتایا کہ انٹارکٹکا میں ہندوستانی سائنسدانوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی موجودگی ، انٹارکٹک مطالعے کے لئے عہد بندی اور نازک انٹارکٹک ایکو سسٹم کے تحفظ کے ساتھ انٹارکٹک معاہدہ نظام کے ممبر کی شکل میں اپنی ذمہ داریوں کے عین مطابق ہے۔اس طرح کے قوانین کو لاگو کرنے سے انٹارکٹک کے کچھ حصوں میں ہونے والے کسی بھی تنازعہ یا جرائم سے نمٹنے کے لئے ہندوستان کی عدالتوں کو قانونی دائرہ مہیا کیا جائے گا۔اس طرح کا قانون شہریوں کو انٹارکٹک معاہدہ نظام کی پالیسیوں کے لئے مجبور کرے گا۔ یہ اعتماد سازی اور عالمی سطح پر ملک کی حیثیت کو بڑھانے میں بھی سود مند ثابت ہوگا۔
بل میں ارضیاتی سائنس کی وزارت کے تحت انڈین انٹارکٹک اتھارٹی(آئی اے اے)کے قیام کی بھی تجویز ہے،جو اعلیٰ فیصلے لینےو الے اتھارٹی ہوگی اور اس سے منظور شدہ پروگراموں اور سرگرمیوں کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔ یہ انٹارکٹک تحقیق اور مہموں کے انعقاد اور نگرانی کے لئے ایک مستحکم ، شفاف اور جواب دہ عمل مہیا کرے گا۔ارضیاتی سائنس کی وزارت کے سیکریٹری آئی اے اے کے صدر ہوں گے اور آئی اے اے سے متعلق ہندوستان کی وزارتوں کے لوگ بھی قانونی ممبر ہوں گے اور فیصلے اتفاق رائے سے ہوں گے۔یکم دسمبر 1959ء کو واشنگٹن ڈی سی میں انٹارکٹک معاہدے پر دستخط کئے گئے تھے۔
ابتداء میں اس پر 12ممالک نے ہی دستخط کئے تھے، تب سب اب تک 42دیگر ممالک نے بھی معاہدے میں شمولیت اختیار کی ہے۔ مجموعی طورپر 54ریاستی فریق اس معاہدے کا حصہ ہیں، جبکہ 29ممالک کو مشاوری فرقی کا درجہ حاصل ہے، جو انٹارکٹک مشاورتی میٹنگ میں ووٹ دے سکتے ہیں اور 25ممالک ایسے ہیں، جن کی حیثیت غیر مشاورتی پارٹی کی ہے۔ انہیں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ہندوستان نے اس معاہدے پر 19اگست 1983ء میں دستخط کئے تھے اور اسے 12ستمبر 1983ء کو مشاورت کا درجہ حاصل ہوا۔






