نئی دہلی// ملک میں آج گیارہویں زرعی مردم شماری (2021-22 )کا افتتاح زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب تومر نے کہا کہ اس مردم شماری سے بھارت جیسے وسیع اور زرعی ملک میں بہت بڑے فوائد حاصل ہوں گے۔
جناب تومر نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے پر زور دیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے معیار زندگی کو اونچا اٹھانے، چھوٹے کسانوں کو بااختیار بنانے، انھیں منافع بخش فصلوں کی طرف راغب کرنے اور عالمی معیار کے مساوی پیداوار کے معیار کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔پروگرام کے دوران جناب تومر نے زرعی مردم شماری کے لیے مبارکباد پیش کی اور کہا کہ زراعت کا شعبہ وزیر اعظم مودی کے ٹھوس اقدامات کا ثمرہ ہے، ملک تیزی سے ڈیجیٹل زراعت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ وقت اس کمپیوٹیشن میں ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کرنے کا ہے۔
انھوں نے کہا کہ زرعی مردم شماری کے بارے میں وسیع تر تناظر میں سوچا جانا چاہیے۔ زرعی کمپیوٹیشن فصلوں کی نقشہ سازی میں بھی حصہ ڈال سکتی ہے تاکہ ملک کو اس کے فوائد حاصل ہوں۔ جناب تومر نے مرکزی محکموں، ریاستی حکومتوں اور متعلقہ اداروں سے کہا کہ وہ اس مردم شماری کو پوری لگن کے ساتھ انجام دیں۔اس موقع پر جناب تومر نے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے استعمال کے لیے مردم شماری کے لیے کام کاج کے متعلق رہنما خطوط کی ہینڈ بک جاری کی اور ڈیٹا کلیکشن پورٹل/ایپ کا آغاز کیا۔ مرکزی وزرائے مملکت برائے زراعت و کسان بہبود، محترمہ شوبھا کرندلاجے اور جناب کیلاش چودھری، زرعی سکریٹری جناب منوج آہوجا، ایڈیشنل سکریٹری اور مالیاتی مشیر جناب سنجیو کمار اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے افسران اس پروگرام میں شریک تھے۔






