جموں کشمیر کے طلبا و طالبات کےساتھ مبینہ ناانصافی پر سید محمد الطاف بخاری کا اظہار تشویش
سرینگر/15ستمبر/ اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے پنجاب کی دیش بھگت یونیورسٹی (ڈی بی یو) میں نرسنگ کے کئی طلبا و طالبات کے ساتھ کالج انتظامیہ کے مبینہ امتیازی سلوک اور پولیس لاٹھی چارج سے متعلق اطلاعات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں ذاتی طور مداخلت کرتے ہوئے اسے پنجاب کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھائیں۔اپنے بیان میں سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ انہیں متاثرہ طلبائ و طالبات نے مطلع کیا ہے کہ کالج انتظامیہ کی طرف سے ان کے داخلوں کو دوسرے نرسنگ کالج، جو انڈین نرسنگ کونسل (آئی این سی) کی طرف سے تسلیم شدہ نہیں ہے، میں منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف ا±ن کے پرامن احتجاج کے دوران ان پر پولیس نے شدید لاٹھی چارج کیا گیا ہے۔سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ”یہ بات حیران ک±ن ہے کہ ان طلبائ و طالبات کو ایک ایسے وقت میں دوسرے کالج میں منتقل کیا جا رہا ہے، جب وہ پہلے ہی دیس بھگت یونیورسٹی میں تین سال کی تعلیم مکمل کر چکے ہیں اور ان کا چوتھا سال شروع ہونے والا ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ کالج انتظامیہ نے مبینہ طور پر ان طلبائ کو الٹی میٹم دیا ہے کہ یا تو وہ کالج منتقلی کے حکم کی تعمیل کریں یا فیس وغیرہ واپس لے کر گھر چلے جائیں۔ کالج انتظامیہ کی طرف سے اس طرح کا طرز عمل بلا شبہ بلاجواز ہے۔“سید محمد الطاف بخاری نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو پنجاب حکومت کے ساتھ اٹھائیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ دیس بھگت یونیورسٹی میں زیر تعلیم جموں کشمیر کے طلبا و طالبات کو کسی قسم کی غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا، ”میں ایل جی منوج سنہا جی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں اور اسے پنجاب کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھائیں تاکہ جموں و کشمیر کے طلبائ کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور انہیں ان کے تعلیمی سفر کے دوران کسی بھی طرح کی پریشانی کا سامنا کرنے سے محفوظ رکھا جاسکے۔“انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبائ کی شکایات کو بغور س±ننے اور ا±نہیں تمام مطلوبہ سہولیات بہم پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔






