سرینگر….02اپریل…. سی این آئی …….ملک کی سلامتی حکومت کی ”اولین ترجیح“میں شامل ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر چینی دستوں کی تعیناتی کے پیش نظر شمالی سیکٹر میں حالات کشیدہ ہیں۔ایسے میں فوج کو اس سرحد پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔راجناتھ سنگھ نے جموں کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں امن اور استحکام ہے۔اور جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی سے نمٹنے میں کیلئے سیکورٹی فورسز کے درمیان بہترین تال میل سے ملی ٹنسی ختم ہونے کو پہنچی ہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق نئی دلی میں گزشتہ دنوں سے جاری فوجی کمانڈرس کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر چین اور چینی سرگرمیوں کی طرف سے جاری تعطل کے درمیان فوج کو چوکس کر دیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ملک کی سلامتی حکومت کی ”اولین ترجیح“ہے۔ اس دوران راجناتھ سنگھ نے کہا کہ مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر چینی دستوں کی تعیناتی کے پیش نظر شمالی سیکٹر میں حالات کشیدہ ہیں، ایسے میں فوج کو اس سرحد پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اس دوران وزیر دفاع نے مسلح افواج پر بھی زور دیا کہ وہ دنیا بھر کی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں پر توجہ دیں اور اس کے مطابق اپنے منصوبوں اور حکمت عملیوں کو ڈھالیں۔ اس دوران راج ناتھ سنگھ نے یہ بھی کہا کہ اس وقت دنیا کو ہر طرح کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ سے مستقبل کی جنگیں انتہائی غیر متوقع ہوں گی۔ نیز موجودہ دور کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں دھمکیوں اور ہتھیاروں کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے۔ اسی مناسبت سے ہمیں اپنی دفاعی تیاریوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس دوران انہوں نے انٹیلی جنس ڈیٹا کے موثر استعمال پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ریئل ٹائم انٹیلی جنس کو زیادہ مو¿ثر طریقے سے استعمال کیا جائے تاکہ ہم مستقبل میں ایسے کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔اس دوران انہوں نے جموں و کشمیر کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں امن اور استحکام ہے۔ اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں ملی ٹنسی سرگرمیوں میں بھی کمی آئی ہے۔ مغربی سرحدوں کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے سرحد پار ملی ٹنسی کے خلاف ہندوستانی فوج کے ردعمل کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ میں جموں و کشمیر میں ملی ٹنسی کی لعنت سے نمٹنے میں فوج کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز اور پولیس فورسز کے درمیان بہترین تال میل کی تعریف کرتا ہوں۔ شمال مشرقی ریاستوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر دفاع نے مزید کہا کہ وہاں ہندوستانی فوج کی کارروائیوں کے بعد داخلی سلامتی کا منظرنامہ نمایاں طور پر بہتر ہوا ہے۔ تاہم، ہمیں امن کے لیے حکومت کی کوششوں کو چیلنج کرنے والی ملک دشمن تنظیموں کے خلاف چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔آرمی کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے مسلح افواج کی فلاح و بہبود کو حکومت کا اہم مقصد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر فوجی اور سابق فوجیوں کی بہبود اور بہتری کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ حکومت مسلح افواج کے لیے اتنی ہی تندہی سے کام کر رہی ہے جس طرح مسلح افواج ملک کی سلامتی کے لیے کام کر رہی ہیں۔راجناتھ سنگھ نے موجودہ پیچیدہ عالمی صورتحال پر زور دیا جو عالمی سطح پر ہر ایک کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر روایتی اور غیر متناسب جنگیں، بشمول ہائبرڈ جنگ مستقبل کی روایتی جنگوں کا حصہ ہوں گی۔ سائبر، معلومات، مواصلات، تجارت اور مالیات سبھی مستقبل کے تنازعات کا ایک لازم و ملزوم حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلح افواج کو منصوبہ بندی اور حکمت عملی بناتے وقت ان تمام پہلوو¿ں کو مدنظر رکھنا ہو گا۔






