سرینگر…09…. ستمبر…………اے پی آئی ………..پی ڈی پی کے بعد اپنی پارٹی نے بھی شمالی کشمیرکے سرحدی قصبہ اوڑی حلقے میں آزاد اور سابق وزیر کی حمایت کا اعلان کردیا ،پارٹی سربراہ نے کہاکہ دہلی نے ہمارا سب کچھ چھین لیااگر چہ موجودہ نئی اسمبلی کوئی طاقت ور ادارہ نہیں ہو گا تا ہم جب سینئر اوردور اندیش لیڈر اس اسمبلی کے اندر پہنچائےے گے تو اسے طاقتور بنانے او رجموںو کشمیرکے عزت وقار اور چھینے گئے اختیارات کی واپسی کے لئے راہ ہموار ہوگی ۔ پی ڈی پی این سی کے بعد بی جے پی کی گود میں پلنے والی دوسری پارٹی ہے ا س پارٹی کے سربراہ کامزاج موسم کی طرح بدلتا رہتا ہے او رکبھی گمان یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کئی اپنی پارٹی جسکی وہ سربراہ ہے پروہ کسی پارٹی قرار نادے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق شمالی کشمیر بارہمولہ کے سرحدی قصبہ اوڑی حلقے میں پروگریسو آزاد پارٹی سے علیحدہ ہوئے سابق وزیر تاج محی الدین کوپہلے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے امیدوا رکھڑا نہ کر کے اپنی حمایت کاعلان کیاتھاا سکے بعد24گھنٹے کے اپنی پارٹی کی جانب سے سے سابق وزیر کوحلقے میں حمایت دینے کااعلان کیا۔پارٹی کے صدرسیدالطاف بخاری نے پردیس کانفرنس کے دوران اعلان کیاکہ ان کی پارٹی اوڑی حلقے میں کسی بھی امیدوار کونامزد نہیں کریگی بلکہ سابق وزیر کو حمایت فراہم کریگی ۔انہوں نے کہا مضبوط مستحکم امیدوار کامیدان میں ہوناضرور ی ہے ۔اپنی پارٹی کے صدر نے کہاپانچ اگست2019کے بعدجموںو کشمیرکا سب کچھ چھین لیاگیا گرچہ نئی اسمبلی اتنی طاقتور نہیں ہوگی تاہم مضبوط او دو راندیز لیڈر اگر منتخب ہونگے تو جموںو کشمیرکے لوگوںکے حقوق ان کاعزت وقار دوبارہ بحال کر نے کے لئے راہ ہموا رہوسکتی ہے او رہندوستان کی مرکزی حکومت کوایک پیغام چلاجائےگا کہ مفاد کے معاملے میں جموںو کشمیرکے لوگ ایک ہےں ۔نیشنل کانفرنس کوہدف تنقید کانشانہ بناتے ہوئے اپنی پارٹی کے صدر نے کہاکہ کانگریس کے ساتھ ان کااتحاد دکھاوہ ہے اس اتحاد پراگر سنجیدگی کے ساتھ غو رکیاجائے تویہ پہلے دن ٹوٹاتھا۔انہوں نے کئی حلقوں میں دوستانہ الیکشن پرسوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہاکہ اگر اتحاد ہے تو دوستانہ الیکشن کیامعنی رکھتاہے ۔انہوںنے کہ این سی یوز اِن تھرو والافارمولہ اپنانے کی عادی ہوچکی ہے اور اس پارٹی کویہ گمان ہے سب ان کے ڈکٹیشن پرکام کرینگے کانگریس کی مجبوری ہے اور اس اتحاد نے کانگریس کے ملکی بڑی پارٹی ہونے کے دعوے کوبے معنیٰ بناکے رکھ دیاہے ۔پی ڈی پی صدر کی جانب سے عوامی اتحاد اور دوسری پارٹیوں کوکسی اور پارٹی قرا ردینے کے بیان کے سوال کاجواب دیتے ہوئے سابق وزیرنے کہاکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ کامزاج موسم کی طرح بدلتا رہتاہے اس کے نزدیک ہرکوئی پارٹی پروکسی ہے کبھی گمان یہ بھی ہوتاہے کہ کئی وہ اپنے پارٹی کوبھی پروکسی پارٹی قرار نادئے ۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی نیشنل کانفرنس کے بعد دوسری سیاسی پارٹی ہے جوبھارتیہ جنتا پارٹی کی گو د میں بیٹھی اور محبوبہ مفتی کوجو وزیراعلیٰ کاپینشن مل رہاہے اس میں پچاس فیصدی کاہاتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کاہے ۔انہوں نے کہاکہ جہاں کئی بھی مضبوط آزاد امیدوار ہوگاا پنی پارٹی اس کی حمایت کرنے سے گریز نہیں کریگی ہر ایک کوجمہوریت میں حق ہے اور ہم ایک صحتمندجمہوریت کے رواں دارہیں ۔






