نئی دلی//حکومت ہند اور جمہوریہ نمبییا کی حکومت نے آج جنگلی حیات کے تحفظ اور حیاتی تنوع کے پائیدار استعمال کے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے ہیں تاکہ چیتے کو بھارت کے تاریخ رینج میں قائم کیا جاسکے۔نمیبیا کی نائب صدر محترمہ ننگولوممبا اور ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا میں تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپندر یادو مفاہمت نامے پر دستخط کرتے ہوئے۔یہ مفاہمت نامہ باہمی احترام، اقتدار اعلی، برابری اور بھارت اور نمیبیا کے بہترین مفادات کے حصول کی بنیاد پر حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے تحفظ کو فروغ دینے کےلئے ایک باہمی طور پر مفید تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔
قومی تحفظ کے اصولوں اور سماجی اخلاقیات کے لئے چیتا خاص اہمیت کا حامل ہے۔ چیتے کو پھر سے بھارت واپس لانا ، ان کے تحفظ کے لئے اہم مضمرات کا حامل ہوگا۔ چیتے کی بحالی، چیتے کےاصل مسکنوں کی اور حیاتیاتی تنوع کو بحال کرنے اور حیاتیاتی تنوع کے تیزی سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے میں مدد کرے گی۔بڑے گوشت خور درندوں میں چیتا انسانی مفادات کے ساتھ
سب سے کم متصادم ہوتا ہے کیونکہ یہ نہ تو انسانوں کے لئے خطرہ ہوتے ہیں اور عام طور پر بڑے مویشیوں پر حملہ نہیں کرتے۔ ایک اعلی قسم کے شکاری جانور کو واپس لانے سے تاریخی ارتقا کا توازن بحال ہوگا جس سے ماحولیات کی مختلف سطحوں پر بہتر اثرات مرتب ہوں گے اور جنگلی حیات کے مسکن (گھاس کے میدان، جھاڑیوں کے جنگل )کے بہتر بندوبست اور بحالی کی جاسکے گی اور چیتے کے لئے درکار شکار کی مختلف اقسام اور ان کے لئے درکار ماحول کا تحفظ بھی کیا جاسکے گا۔بھارت میں چیتے کو دوبارہ متعارف کرانے کے پروجیکٹ کا اصل مقصد ، بھارت میں چیتوں کے پنپنے والی آبادی قائم کرناہے تاکہ چیتے ایک بڑے شکاری جانور کے اپنے رول کو ادا کرسکیں اور اس کی تاریخی خطوں میں توسیع کے ساتھ عالمی سطح پر ان کے تحفظ کی کوششوں میں تعاون کیا جاسکے۔






