Thursday, June 4, 2026
  • Home
  • ePaper
Daily Indian Times
  • Home
  • Top Stories
  • Region
  • National
  • World
  • Business
  • Sports
  • Edit
  • Opinion
  • ePaper
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Region
  • National
  • World
  • Business
  • Sports
  • Edit
  • Opinion
  • ePaper
No Result
View All Result
Daily Indian Times
No Result
View All Result
Home National

تلنگانہ میں 8 سال کے دوران 4 لاکھ کروڑ روپئے قرض کا اضافہ/سیتارامن

by Indian Times
27/07/2022
A A
FacebookTwitterWhatsappEmail

حیدرآباد//تشکیل تلنگانہ کے موقع پر 2014 میں تلنگانہ ایک فاضل بجٹ رکھنے والی ریاست تھی خود چیف منسٹر کے سی آر نے کئی مرتبہ اس کا اعلان کیا ہے ۔ اس وقت ریاست پر صرف 69 ہزار کروڑ روپئے کا قرض تھا ۔ 8 سال میں تلنگانہ کا قرض بڑھ کر 4.47 لاکھ کروڑ روپئے تک پہونچ گیا ہے ۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے پیر کو لوک سبھا میں ریاستوں کے قرض پر

تفصیلات پیش کرتے ہوئے یہ بات بتائی ہے ۔ انہوں نے ریاست تلنگانہ کے قرضوں پر پہلی مرتبہ تفصیلاف کا انکشاف کیا ہے ۔ مرکزی وزیر فینانس نے بتایا کہ سال 2020 تک تلنگانہ پر 2,25,418 کروڑ روپئے قرض کا بوجھ تھا ۔ مارچ 2022 تک یہ قرض بڑھ کر 3,12,191 کروڑ روپئے تک پہونچ گیا ۔ یہ صرف مرکزی حکومت کے منظور کردہ بجٹ قرض ہیں گیارنٹی قرض کا انہوں نے کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے ۔

تاہم حال ہی پیش کردہ بجٹ میں ریاست کے گیارنٹی بجٹ 31 مارچ 2022 تک 1,35,282 کروڑ روپئے ہونے کی حکومت نے ہی نشاندہی کی ہے ۔ بجٹ قرض اور گیارنٹی قرض کو شمار کرلیا جائے تو ریاست تلنگانہ کا جملہ قرض 4,47,473 کروڑ روپئے ہوجائے گا ۔ رواں مالیاتی سال 53 ہزار کروڑ روپئے بجٹ قرض اور 40 ہزار کروڑ روپئے گیارنٹی قرض حاصل کرنے کی بجٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے ۔ اس کو بھی شمار کرلیا جاتا ہے ۔

ریاست کا قرض 5 لاکھ کروڑ کو عبور کرجائے گا ۔ تاہم مرکزی حکومت کی جانب سے حصول قرض پر ریاستوں کے لیے تحدیدات عائد کئے جانے کے بعد تلنگانہ کو کتنا قرض حاصل ہوگا ۔ اس پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ مرکزی حکومت کے تازہ قواعد کے مطابق بجٹ قرض اور گیارنٹی قرض دونوں ملاکر ایف آر بی ایم کے حدود میں ہونا چاہئے ۔ مستقبل میں بھی تلنگانہ حکومت قرض حاصل کرسکتی ہے ۔ تاہم وہ بھی بجٹ قرض کے حدود میں ہونا چاہئے ۔

اس کے علاوہ گیارنٹی قرض کیلئے بنکوں سے رجوع ہونے پر وہ بھی ایف آر بی ایم کے حدود میں ہی ہونا چاہئے ۔ گذشتہ دو سال سے قرض حدود پار کررہی ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال گیارنٹی قرض حاصل ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں

ShareTweetSendSend
Previous Post

بھارت کاشمال مشرق خطہ سیاحوں کی جنت ہے /۔ نائب صدر

Next Post

فرانسیسی ایلچی لینین نے کارگل وجے دوس پر بھارتی فضائیہ کو خراج تحسین پیش کیا

Indian Times

Indian Times

Related Posts

ڈویژنل کمشنر کشمیر نے وادی میں ضروری اشیاءکی دستیابی کا جائزہ لیا
J&K

ڈویژنل کمشنر کشمیر نے وادی میں ضروری اشیاءکی دستیابی کا جائزہ لیا

01/04/2026
چیف سیکرٹری نے آر ایم پی سکیم کے تحت ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک کے اثرات کا جائزہ لیا
J&K

چیف سیکرٹری نے آر ایم پی سکیم کے تحت ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک کے اثرات کا جائزہ لیا

01/04/2026
وزیراعظم مودی کا یو اے ای کے صدر کو ٹیلی فون
National

وزیراعظم مودی کا یو اے ای کے صدر کو ٹیلی فون

19/03/2026
مختلف وفود لیفٹنٹ گورنر سے ملاقی
Business

مختلف وفود لیفٹنٹ گورنر سے ملاقی

19/03/2026
لیفٹنٹ گورنر نے انڈین ریلوے مینجمنٹ سروس ( آئی آر ایم ایس ) کے افسر ٹرینیز سے ملاقات کی
National

لیفٹیننٹ گورنر کی نوریہ ، چترا شکلادی ، اُگادی ، گڑی پڈو اور چیٹی چند کے موقعہ پر مُبارک باد

19/03/2026
جموں و کشمیرجلد ہی دہشت گردی سے پاک ہو جائےگا/ لیفٹیننٹ گورنر
Business

جموں و کشمیرجلد ہی دہشت گردی سے پاک ہو جائےگا/ لیفٹیننٹ گورنر

18/03/2026
Next Post
فرانسیسی ایلچی لینین نے کارگل وجے دوس پر بھارتی فضائیہ کو خراج تحسین پیش کیا

فرانسیسی ایلچی لینین نے کارگل وجے دوس پر بھارتی فضائیہ کو خراج تحسین پیش کیا

  • Home
  • ePaper

© Indian Times - Designed by GITS

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Region
  • National
  • World
  • Business
  • Sports
  • Edit
  • Opinion
  • ePaper

© Indian Times - Designed by GITS