تریاٹھ میں اپنی پارٹی کا یک روزہ ورکرز کنونشن منعقد
سرینگر/ 28اپریل
اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہاہے کہ جموں وکشمیر میں جنگلات حقوق قانون نافذ ہونے کے باوجود راجوری میں زمینی سطح پر قبائل اور جنگلات پر منحصر دیگر لوگوں جنگلات حقوق قانون کے فوائد نہیں مل رہے۔الطاف بخاری جنہوں نے سے خطہ پیر پنجال کاتفصیلی دورہ شروع کیا ، نے سرحدی ضلع راجوری کے کالاکوٹ تریاٹھ میں اپنی پارٹی ورکروں کے پہلے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے قبائل اور جنگلات پر منحصر دیگرلوگوں کو جنگل اراضی کے حقوق دینے کے لئے جموں وکشمیر میں جنگلات حقوق قانون نافذ کیاتھا۔ اس سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے انتظامیہ کی طرف سے تشکیل دی گئی متعلقہ کمیٹیوں کے پاس اہل افراد نے اپنے دعوے بھی پیش کئے لیکن قواعد وضوابط کے تحت آج تک مستحقین کو حقوق نہیں دیئے گئے۔ اِس کی بجائے حکومت نے بلڈوزر سیاست کی اور لوگوں کو ا±ن کے آئینی حقوق سے محروم کیا۔الطاف بخاری نے تریاٹھ اور راجوری کے دیگر علاقوں میں لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں انتظامیہ کی نااہلی اور سڑکوں کی خستہ حالی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے دیگر علاقوں کی طرح راجوری میں غریب اور سماج کے کمزور طبقہ خاص طور پر ٹرائبل لوگ دہائیوں سے سرکار اور جنگلات اراضی پر منحصر ہیں۔اِنہوں نے بنجر زمین کو قابل ِ کاشت بنایا اور وہ اس کو اپنے مال مویشی چرانے کے لئے بھی استعمال کرتے تھے لیکن اب ا±نہیں اس سے سے بھی منع کیاجارہا ہے اور تجاوزات کے نام پر مہم شروع کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر چہ اپنی پارٹی کی بروقت مداخلت اور یہ معاملہ مرکزی حکومت کی نوٹس میں لانے کے بعدمہم کو روک دیاگیا ہے لیکن اگر اپنی پارٹی نے جموں وکشمیر میں حکومت بنائی تو وہ سرکار ی افسران جوکہ لوگوں کی بے دخلی اور ا±ن کے آشیانے چھیننے کے ذمہ دار تھے ، کو جوابدہ بنایاجائے گا۔انہوں نے گرماسے سرمائی زون کی طرف موسمی نقل مکانی کے دوران قبائلی لوگوں کو درپیش مشکلات ومسائل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا”ٹرائبلز کو ٹرانسپورٹیشن سہولیات مہیا کرنے کے دعوے ناکام ہیں کیونکہ مستحق قبائلی لوگ کو ایسی کوئی سہولت نہیں مل رہی اور ا±نہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن سہولت کا فائیدہ موسمی نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو نہیں مل رہا“۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ گاو ¿ں میں سرکاری ڈپوو ¿ں سے راشن سپلائی بحال کی جائے جس کو بند کر دیاگیا ہے۔ انہوں نے فی کنبہ رعایتی نرخوں میں دیئے جانے والے راشن کوٹہ میں بڑھوتری کی بھی مانگ کی۔الطاف بخاری نے کالاکوٹ میں تھرمل پروجیکٹ اورکان کنی کے ورکروں کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ جلد سے جلد اِن ورکروں کے بقیہ مطالبات پورا کرے۔اپنی پارٹی صدر نے مزید کہا” جموں اور کشمیر خطوں کے لوگوں کو یکساں مسائل کا سامنا ہے اور اسمبلی انتخابات کرانے کے ا±ن کے مطالبہ کو کئی وجوہات کا عذر ظاہر کرکے پورا نہیں کیاجارہا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت جموں وکشمیر میں انتخابات لڑنے کے لئے رازی نہیں“۔انہوں نے علاقائی سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ نیشنل کانفرنس، بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس اور پی ڈی پی نے 72سالوں تک جموں وکشمیر پر حکمرانی کی اور انہوں نے لوگوں کے لئے کچھ نہ کیا۔ جب پانچ اگست2019کو دفعہ 370ہٹایاگیا اور جموں وکشمیر کا درجہ گھٹا کر یوٹی کیاگیا، یہ صر ف اپنی پارٹی تھی، جس نے آگے آگر لوگوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کی اور کئی مسائل کو حل کروانے کے لئے جدوجہد کی۔یہ اپنی پارٹی ہی تھی جس نے مقامی لوگوں کے لئے نوکریوں اور زمین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا۔الطاف بخاری نے کہا”ہماری جماعت میں کوئی داغدار لیڈر نہیں، ہمارے لیڈر بلا امتیاز لوگوںکے لئے کام کرنے کے وعدہ بند ہیں،لوگوں کو چاہئے کہ وہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اپنی پارٹی کو ووٹ دیں اور حمایت کریں، اگر ہمیں حکومت سازی کا موقع ملا تو ہم اچھی انتظامی، شہرودیہات میںیکساں ترقی، ترقی کے لئے منصفانہ فنڈز کی تقسیم کو یقینی بنائیں گے۔ ہم قدرتی وسائل کے تحفظ کے وعدہ بند ہیں، ہم غیر مقامی ٹھیکیداروں کو جموں وکشمیر میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت سازی کے چوبیس گھنٹوں کے اندر دربارمو روایت کو بحال کیاجائے گا“۔کنونشن کے دوران انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور اِس کے سابقہ لیجسلیچر جوکہ کالاکوٹ۔ سندر بنی سے ایم ایل اے تھے، کو بھی تنقید کا نشانہ بنایااورکہاکہ وہ لوگوں کو صاف پانی، بجلی، سڑک، صحت اور تعلیمی ڈھانچہ جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہے۔انہوں نے تلواڑہ، پونی، ریاسی ، راجوری اور دیگر علاقوں کے جموں مائیگرینٹس کے معاملات کو ا±جاگر کرتے ہوئے مانگ کی کہ کشمیری مائیگرینٹس کی طرز پر جموں مائیگرینٹس کو بھی مراعات دی جائیں۔اِنہیں بھی راشن، ریلیف پیکیج، رہائش کے علاوہ روزگارو تعلیمی اداروں میں ریزرویشن دی جائے۔ ملی ٹینٹوں کی دھمکیوں کی وجہ سے دہائیوں قبل جموں مائیگرینٹ اپنے آبائی گاو¿ں وگھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے جنہیں حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہ دی گئی۔ انہوں نے یقین دلایاکہ وہ یہ معاملہ مرکزی وزیر داخلہ کے ساتھ ا±ٹھائیں گے۔اس موقع پراپنی پارٹی نائب صدر غلام حسن میر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ لوگ تبدیلی، ترقی، اپنی زمین کے حقوق اور نوکریوں کا تحفظ چاہتے ہیں، لوگ جموں وکشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی سے ناخوش ہیں کیونکہ اِس نے دفعہ370منسوخ کیا اور اِس کے زخم ابھی تک نہیں بھرے۔ جب لوگ مایوسی اور بے بسی کے عالم میں تھے الطاف بخاری صاحب نے اپنی پارٹی بنائی۔ ہم نے روایتی سیاسی جماعتوں کی طرح خاموشی اختیار نہیں بلکہ لوگوں کی آواز کو بلند کیا۔غلام حسن میر نے مزید کہا”اپنی پارٹی کا ایجنڈا امن، خوشحالی اور ترقی ہے، ہماری دشمن غریبی اور بے روزگاری ہے۔ اپنی پارٹی لوگوں کو یقین دلاتی ہے کہ ہم تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے دونوں خطوں میں روزگار کے مواقعے پیدا کریں گے“۔پارٹی نائب صدر چوہدری ذوالفقار علی نے کہاکہ دفعہ 370اور35Aکی منسوخی سے جموں وکشمیر کے لوگ سخت مایوس ہیں۔ سابقہ حکومت نے آئین ِ ہند کے تحت جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے تحفظ کے لئے کچھ نہیں کیا، کانگریس پارٹی نے 70سال ملک پر راج کیا مگر خصوصی درجہ کے مستقل تحفظ کو یقینی نہیں بنایا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی پارٹی اور اِس کے قائد سید محمد الطاف بخاری کے ہاتھ مضبوط کریں جوکہ جموں وکشمیر میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ضلع راجوری میں کئی اہم ترقیاتی پروجیکٹوں کا بھی ذکر کیا جوکہ سالہا سال سے نامکمل ہیں اور انتظامی سطح پر کوئی جوابدہی نہیں۔اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ نے بھی خطاب کیا اور پارٹی کی فلاحی پروگراموں اور سماجی تحفظ اسکیموں کو ا±جاگر کیا جنہیں اقتدار میں آنے کے بعد عملی جامہ پہنایاجائے گا جن میں مفت بجلی، سالانہ چار گیس سلنڈر، ماہانہ پانچ ہزار روپے تک پنشن، غریب بچیوں کو شادی کے لئے ایک لاکھ روپے مالی امداد وغیرہ شامل ہے۔یک روزہ کنونشن میں پارٹی ضلع صدر راجوری رورل بوشن کمار اوپل نے شکریہ تحریک پیش کی۔ اس موقع پر نائب صدر یوتھ ونگ رقیق احمد خان، سرپنچ ٹھاکر بلدیو سنگھ، عبدالرحمن سرپنچ، ضلع صدر راجوری سید منظور حسین شاہ، چوہدری تعظیم گوجر، عبدالرشید گورسی، سید مروت حسین شاہ، منیر حسین بلاک صدر، راج کمار، گنیش کمار، ماسٹر اشوک کمار، مکیش کمار، رتن لال وغیرہ بھی موجود تھے۔






