ہندوستانی شہروں کو چاہئے کہ وہ مقامی اشیاءکا استعمال زیادہ کریں
اس سے شہریوں کی زندگیوں میں خوشحالی لانے میں مدد ملے گی۔ پیوش گوئیل
سرینگر29اکتوبرسی این آئیمرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا ہے کہ ہندوستان کے ہر شہری کو چاہئے کہ وہ ملک میں بنی اشیاءکا زیادہ استعمال کریں اور اسی کو خریدنے کو ترجیح دیں تاکہ اس سے جڑی صنعتیں ترقی کرسکیں جس سے شہریوں کی زندگی میں خوشحالی آئے گی اور اقتصادی حالات میں بھی سدھار آئے گا۔ سی این آئی کے مطابق مرکزی وزیر برائے صنعت و تجارت پیوش گوئل نے ہندوستان کی کاروباری برادری سے کہا کہ وہ ہندوستان میں بننے والی مصنوعات کو ترجیح دیں۔ وہ حیدرآباد میں آل انڈیا ویشیہ فیڈریشن (اے آئی وائی ایف ( سے خطاب کررہے تھے۔وزیرموصوف نے ہندوستان میں صنعت اور مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سے روزگار کو فروغ دینے اور اپنے شہریوں کی زندگیوں میں خوشحالی لانے میں مدد ملے گی۔ مسافروں اور سیاحوں سے اپنے سفری بجٹ کا کم از کم 5 فیصد مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات پر خرچ کرنے کے وزیر اعظم مودی کی اپیل کی توثیق کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ ہمارے ہنر مند دستکار، کاریگر اور صنعت کار حمایت اور ترقی کے مستحق ہیں۔جناب گوئل نے نشاندہی کی کہ پچھلے 30 سالوں میں ہندوستان کی جی ڈی پی میں 11.8 گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایک وقت تھا جب آبادی کے ایک بڑے حصے کی توجہ زندگی کی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، لباس اور رہائش کے حصول پر مرکوز تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر بھرپور توجہ دینے کی وجہ سے اب صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ لوگ ضروریات زندگی کے لیے مسلسل جدوجہد سے آزاد ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اصلاحات جو ان کے دل کے سب سے قریب تھی وہ ہے 12 کروڑ سے زیادہ بیت الخلا بنانے میں حکومتوں کی کامیابی، جو کہ ایک انتہائی بنیادی ضرورت،صفائی ستھرائی کو ملک کے ہر گھر تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا ”یہ صرف بیت الخلاءکا معاملہ نہیں تھا بلکہ عزت اور عزت نفس کا معاملہ تھا، خاص طور پر ہماری خواتین کے لیے“۔وزیرموصوف نے کہا کہ حکومت نے نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ (این ایف ایس اے) کے تحت غذائی اجناس کی فراہمی اور ہر ماہ فی شخص 5 کلو اضافی خوراک فراہم کرکے تقریباً 80 کروڑ شہریوں کے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کے لیے یہ خوش آئند بات ہے کہ ان کی رقم حقیقی ضرورت مندوں کی مدد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب 50 کروڑ لوگوں کو مفت، معیاری صحت کی سہولت فراہم کی جارہی ہے اور جل جیون مشن کے تحت پینے کا صاف پانی ہر گھرمیں نل کے ذریعہ پہنچایا جا رہا ہے۔انہوں نے ان تمام اقدامات کو بنیادی کام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بنیادی کاموں سے ہماری آبادی، خاص طور پر ہمارے نوجوانوں کے لیےاس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ ایسی سرگرمیاں کرنے کے لیے آزاد کیا جائے جو ترقی اور ترقی کا باعث بنیں۔ اس طرح ہمیں ہمارے ناقابل یقین آبادیاتی منافع کو حاصل کرنے میں مدد ملےگی۔ انہوں نے مزید کہا ”ہمارے نوجوان اب ضروریات کے لیے جدوجہد سے آزاد ہیں اور انتہائی خواہش مند ہیں۔ وہ جدت پسند اور کاروباری بننے نیز ترقی کو آگے بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔“وزیرموصوف نے خواتین کی بنیادی ضروریات خصوصاً ماہواری کی صفائی کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ بلوغت کو پہنچنے پر لڑکیوں کےا سکول چھوڑنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جناب نے کہا کہ حکومت بہت کم قیمتوں پر سینیٹری پیڈ فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے خواتین کو ماہواری کی حفظان صحت کے مختلف پہلووں کے بارے میں آگاہی پیداکرنے کے لیے مزید بیداری پروگراموں پر زور دیا تاکہ ان کی حفاظت اور انہیں بااختیار بنایا جا سکے۔ وزیر موصوف نے اے آئی وی ایف سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے کہ اگلے ایک سال میں ملک کی ہر ایک خاتون کو سینیٹری پیڈ کے تئیں بیداری اور رسائی حاصل ہو۔





