سری نگر….۶۱،دسمبر…جے کے این ایس….جموں و کشمیر پولیس کی کاو¿نٹر انٹیلی جنس کشمیرکی ٹیموں نے پولیس وفورسزکے اشتراک سے منگل کی صبح دہشت گردانہ سرگرمیوں اوردہشت گردی کی تشہیرسے متعلق معاملات میں کشمیر ڈویڑن میں متعدد مقامات چھاپے ڈالے اور مشتبہ افرادکے گھروںکی تلاشی لی۔جے کے این ایس کے مطابقسرکاری ذرائع نے بتایا کہ منگل کی صبح پولیس کی کاو¿نٹر انٹیلی جنس کشمیرکی الگ الگ ٹیموں نے پولیس اور سی آر پی ایف کےساتھ مل کر دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی جاری تحقیقات کے سلسلے میں وادی کے 5 اضلاع میں چھاپے مارنا شروع کر دیئے۔دہشت گردی کے جرائم جیسی سرگرمیوں کے خلاف تحقیقات شروع کی گئی ہیں، جن میں دہشت گردی کی آن لائن تعریف وتشہیر اور بنیاد پرستی اور دہشت گردی کی صفوں میں افراد کو بھرتی کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ذرائع نے بتایاکہ CIKکی ٹیمیں 7 اضلاع میں واقع مجموعی طور پر 12سے زیادہ مقامات پر تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔ ان اضلاع میں پلوامہ، بڈگام، کولگام، سری نگر، بارہمولہ، اننت ناگ اور کپواڑہ شامل ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ تلاشی کارروائیاں باقاعدہ طور پر حاصل کئے گئے سرچ وارنٹس کے تحت انجام دی جا رہی ہیں۔ یہ تلاشی کارروائیاں ایف آئی آر نمبر 03/2023 کے سلسلے میں کی جا رہی ہیں، جو پولیس اسٹیشن کاو¿نٹر انٹیلی جنس کشمیر میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 153-A اور505، اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کی دفعات13 اور 18 کے تحت درج کی گئی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق، مذکورہ مقدمہ دہشت گردی سے جڑے سنگین جرائم سے متعلق ہے، جس میں سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے دہشت گردانہ نظریات کی تشہیر، ان کی ترویج اور نوجوانوں کو گمراہ کر کے شدت پسند صفوں میں شامل کرنے کی منظم کوششیں شامل ہیں۔تفتیشی ایجنسی کو شبہ ہے کہ بعض عناصر آن لائن ذرائع استعمال کر کے دہشت گرد تنظیموں کے حق میں پروپیگنڈہ پھیلا رہے تھے اور لوگوں کو شدت پسندی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ ان چھاپوں کا مقصد ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر شواہد کو ضبط کرنا ہے، جو اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔کارروائی کے دوران تفتیشی ٹیمیں قانونی تقاضوں کے مطابق تمام ضروری کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔اس سلسلے میںمزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ سی آئی کے کی جانب سے اس کارروائی کو وادی میں امن و امان برقرار رکھنے اور نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔






