جموں….انفو….اِنڈین کونسل آف ایگری کلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر)۔اے ٹی اے آر آئی، زون۔اوّل کے تحت کرشی وِگیان کیندروں (کے وِی کے) کی سالانہ زونل ورکشاپ 2024-25 کا آج بابا جیتو آڈیٹوریم شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی جموں (ایس کے یو اے ایس ٹی۔جے) چھتہ میں اِفتتاح کیا گیا۔ اِس ورکشاپ کا اِفتتاح وزیر برائے محکمہ زرعی پیداوار، محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج،اِمدادِ باہمی و الیکشن محکمات جاوید احمد ڈار نے کیا جو اِس موقعہ پر پر مہمانِ خصوصی تھے۔تین روزہ ورکشاپ (22 دسمبر تا 24 دسمبر) نے شمالی بھارت بھر سے زرعی تحقیق اور توسیعی خدمات کے اہم شراکت داروں کو ایک جگہ اِکٹھا کیا تاکہ کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے، بہترین طریقے اِشتراک کئے جائیں اور کسانوں کے مرکوزیت والی توسیعی خدمات کو مضبوط بنانے کے لئے مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔اِفتتاحی تقریب ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (زرعی توسیع)، آئی سی اے آر، نئی دہلی ڈاکٹر راجبیر سنگھ بطور مہمانِ ذی وقار، وائس چانسلر سکاسٹ۔جموںپروفیسر بی این ترپاٹھی، ڈائریکٹر آئی سی اے آر۔ اے ٹی اے آر آئی لدھیانہ ڈاکٹر پرویندر شیوران اور یونیورسٹی کے قانونی افسران کی موجودگی موجودگی میں منعقد ہوئی۔ڈائریکٹر ایکسٹینشن سکاسٹ ۔جموں اور ورکشاپ کے کنوینر ڈاکٹر امرش وید نے مہمانوں اور شرکا¿ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کرشی وِگیان کیندروں کے فرنٹ لائن ایکسٹینشن اِداروںکے کلیدی کردار کو اُجاگر کیا اور تحقیق، توسیع اور ترقیاتی محکموں کے باہمی اِشتراک کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ٹیکنالوجی کی مو¿ثر ترسیل اور کسانوں کو بااِختیار بنایا جا سکے۔وزیر جاوید احمد ڈار نے اَپنے اِفتتاحی خطاب میں نچلی سطح پر زراعت کی تبدیلی میں کرشی وِگیان کیندروں کے کردار کو سراہا۔ اُنہوں نے کسان مرکوز توسیعی خدمات کو مضبوط بنانے، تنوع ، قدر میں اِضافے اور زرعی صنعت کاری کو فروغ دینے اور سائنسی اِختراعات کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے جموں و کشمیر یوٹی خطے میںدیرپا اور جامع زرعی ترقی کے فروغ میں سکاسٹ جموں اور آئی سی اے آر۔اے ٹی اے آر آئی کے کردار کی بھی سراہنا کی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی زرعی شعبے کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے جس سے فصلوں کی پیداواری صلاحیت، آبی وسائل اور کسانوں کی روزی روٹی متاثر ہوتی ہے۔ اُنہوں نے کسانوں کو موسمیاتی چیلنجوں کے بارے میں آگاہ کرنے اور انہیں موسمیاتی مزاحم زرعی طریقوں کو اَپنانے کے لئے ضروری علم اور مہارت فراہم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔وزیرموصوف نے اِس بات پر زور دیا کہ کرشی وِگیان کیندروں جیسے اِداروں کے ذریعے بیداری، صلاحیت سازی اور بروقت مشاورتی خدمات کسانوں کو بدلتے موسمی حالات سے ہم آہنگ ہونے اوردیرپازرعی ترقی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔مہمان ذِی وَقار ڈاکٹر راجبیر سنگھ نے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی مزاحم زراعت، زرعی کاروبار، ڈیجیٹل توسیع اور مہارت کی ترقی کے فروغ میں کرشی وِگیان کیندروں کے اُبھرتے ہوئے کردار کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے نتائج پر مبنی توسیعی حکمتِ عملیوں اور جوابدہی نظام کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دیرپازرعی ترقی حاصل کی جا سکے۔وائس چانسلر پروفیسر بی این ترپاٹھی نے اَپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ سکاسٹ ۔جموں نے فرنٹ لائن مظاہروں، آن فارم ٹرائلز اور تشخیصی خدمات کے ذریعے تحقیق اور توسیع کے روابط کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے مفاہمت ناموںکے ذریعے قومی اور بین الاقوامی تعاون میں نمایاں طور پر بڑھایا ہے اور گزشتہ تین برسوں کے دوران اس کے انٹلیک چوئل پراپرٹی رائٹس (آئی پی آر) کے پورٹ فولیو میں مسلسل اِضافہ ہوا ہے جو اِختراع اور ٹیکنالوجی کی کمرشلائزیشن پر مضبوط زور کی عکاسی کرتا ہے۔۔ اُنہوں نے ’جامع زرعی ترقیاتی پروگرام( ایچ اے ڈِی پی)‘ اورجے کے سی آئی پی جیسے فلیگ شپ پروگراموں میں بالخصوص زرعی فصلوں، باغبانی کے فروغ، سٹارٹ اَپ کی ترقی اور فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنوں( ایف پی اوز) کی رہنمائی کے حوالے سے یونیورسٹی کے فعال کردار کو بھی اُجاگر کیا۔ڈاکٹر پرویندر شیوران نے ورکشاپ کے مقاصدکاخاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی اے آر۔اے ٹی اے آر آئی لدھیانہ پنجاب، ہماچل پردیش، اُتراکھنڈ، جموں و کشمیر اور لداخ میں واقع 72 کرشی وِگیان کیندروں کی نگرانی اور معاونت کرتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سالانہ زونل ورکشاپ کارکردگی کے جائزے، تجربات کے تبادلے اور قومی زرعی ترجیحات سے ہم آہنگ عملی منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر ریسرچ سکاسٹ ۔ جموں ڈاکٹر ایس کے گپتا نے خطاب کرتے ہوئے تحقیق اور توسیع کے درمیان مضبوط انضمام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ محل وقوع کے لحاظ سے زرعی چیلنجوں سے نمٹا جا سکے۔اِفتتاحی تقریب کے دوران سات اشاعتیںجاری کی گئیں اور پانچ ایف پی اوز،انٹرپرینیوروں کو زرعی ترقی میں ان کی مثالی شراکت پر اعزازات سے نوازا گیا۔ شکریہ کی تحریک رجسٹرار سکاسٹ ۔ جموں ڈاکٹر انیل کمارنے پیش کی۔اِس ورکشاپ میں ریاستی زرعی یونیورسٹیوں کے ڈائریکٹرز ایکسٹینشن، کرشی وگیان کیندروں کے پروگرام کوآرڈینیٹرز، سائنس دان اور زون۔اوّل کی ریاستوں اور یوٹیز سے تعلق رکھنے والے توسیعی پیشہ ور اَفراد شرکت کر رہے ہیں۔ تین روزہ پروگرام کے دوران بات چیت میںمرکز کرشی وگیان کیندروں کی کارکردگی کا جائزہ، آئندہ سال کے لئے عملی منصوبوں کی منظوری اور زرعی توسیع کو مضبوط بنانے اور کسانوں کے ذریعہ¿ معاش کوبہتر بنانے کے لئے خطے کے لحاظ سے مخصوص حکمت عملی وضع کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔






