سری نگر….۲۲،دسمبر….جے کے این ایس…. جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز جموں میں کابینہ کی میٹنگ کی صدارت کی جس میں کئی اہم انتظامی اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔معلوم ہواکہ کابینہ نے کئی اہم فیصلوںکو بھی منظوری دی ۔جے کے این ایس کے مطابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی زیر صدارت پیرکی صبح تقریباً ساڑھے 10بجے سیول سیکرٹریٹ جموںمیں کابینہ اجلاس کے دوران منصوبوں کا جائزہ لینے،حکمرانی اور عوامی بہبود سے متعلق وقتی تجاویز کو منظوری دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔سرکاری معلومات کے مطابق، کابینہ میٹنگ میں مختلف محکموں میں جاری بڑے کاموں کی حالت کا جائزہ لیا گیا اور تاخیر کا سامنا کرنے والی سکیموں کو تیز کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ کابینہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں وکشمیر کے مختلف اضلاع کیلئے منصوبہ بند آئندہ اقدامات کےلئے درکار انتظامی منظوریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔کابینہ اجلاس کے دوران وزراءنے وزیراعلیٰ کو محکمہ وار کارکردگی، موجودہ چیلنجز اور جاری پروگراموں کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی۔ بات چیت زیادہ تر خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے، ادارہ جاتی میکانزم کو مضبوط بنانے اور عوامی بنیادی ڈھانچے کے کاموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے پر مرکوز تھی۔معلوم ہواکہ کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں دیہی ترقی کے محکمہ کے ولیج لیول ورکرز (VLWs) کی تنخواہ کی سطح میں اضافہ اور ضلع پنچایت افسران (DPOs) کے تقریباً 20 عہدوں کو بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (BDOs) کے طور پر دوبارہ نامزد کرنے جیسے اہم امور بھی شامل ہیں۔ایک انگریزی اخبارنے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیاکہ کابینہ کے ایجنڈے میں شامل ایک اہم چیز ان لوگوں کو5مرلہ اراضی کی الاٹمنٹ ہے جن کے مکانات اس سال مانسون کے دوران جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے اور طوفانی بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہ ہوئے تھے۔ذرائع نے بتایاکہ سیلاب زدہ لوگوں کو5 مرلہ اراضی الاٹ کرنے کی پالیسی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ایک بار جب کابینہ کل اسے منظوری دے دیتی ہے، تو یہ پالیسی منظوری کے لیے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے پاس جائے گی ۔خاص طور پر اس سال14 اور 26 اگست کو مون سون کی بارشوں سے پیدا ہونے والی تباہی کے بعد سرکاری انفراسٹرکچر کے علاوہ شہریوں کے مکانات، کھیتوں، فصلوں وغیرہ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت ان لوگوں کو5 مرلے کا پلاٹ دے گی جن کے مکانات بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے بڑے پیمانے پر تباہ ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے متعلق پالیسی کو منتخب حکومت کی جانب سے کی گئی ایک وسیع مشق کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔ کابینہ میں ایجنڈا کا ایک اور اہم آئٹم جموں سنٹرل کوآپریٹو بینک اور اننت ناگ سنٹرل کوآپریٹو بینک میں118 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق ہے۔یہ دونوں بینک مالیاتی اور دیگر محاذوں پر سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم، دونوں بینک جموں و کشمیر میں کوآپریٹو سیکٹر میں بہت اہم ہیں اور اس لیے حکومت نے ان دونوں بینکوں کو ان کے احیاءکےلئے فنڈ فراہم کرنے کی تجویز پیش کی۔کابینہ دیہی ترقی کے محکمے میں تعینات گاو¿ں کی سطح کے کارکنوں کی تنخواہ کی سطح پر نظر ثانی کرنے پر بھی غور کرے گی،ذرائع نے بتایا کہ یہ مسئلہ گزشتہ کچھ عرصے سے زیر بحث تھا۔کابینہ کے ایجنڈے میں ضلع پنچایت افسران کے تقریباً 20 عہدوں کو دیہی ترقی کے محکمہ میں بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کے طور پر دوبارہ نامزد کرنے کو بھی منظوری دینابھی شامل رہا۔ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ کابینہ مالیاتی امور بشمول مرکزی فنڈنگ اور اگلے بجٹ کے مسائل پر تبادلہ خیال کرے گی حالانکہ 2026-27 کے بجٹ میں ابھی کافی وقت ہے جو کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو کہ محکمہ خزانہ کا چارج رکھتے ہیں، مارچ کے مہینے میں پیش کرنے کا امکان ہے۔کابینہ کی آخری میٹنگ یہاں3 دسمبر کو ہوئی تھی جس میں حکومت نے کابینہ کی ذیلی کمیٹی (سی ایس سی) کی سفارشات کی بنیاد پر جموں و کشمیر کے لیے نئی ریزرویشن پالیسی کو منظوری دی تھی۔ کچھ دن پہلے، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ کابینہ کی طرف سے منظور کردہ ریزرویشن پالیسی لیفٹیننٹ گورنر کے پاس منظوری کے لیے زیر التوا ءہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیریوٹی کابینہ کے فیصلے لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری سے مشروط ہیں۔کابینہ نے اقتصادی طور پر کمزور طبقے (EWS) کے کوٹہ میں7 فیصد اور RBA میں 3 فیصد کی کٹوتی کی تھی اور انہیں 10 فیصد کے مقابلے میں بالترتیب3 اور 7 فیصد کر دیا تھا۔ یہ اوپن میرٹ کوٹہ10 فیصد بڑھانے کے لیے کیا گیا۔






