سری نگر … ۳، جنوری … جے کے این ایس .. منشیات کی لت کو ”ایک اہم انتباہی اشارہ“ قرار دیتے ہوئے ڈویڑنل کمشنر کشمیر، انشول گرگ نے ہفتہ کو اس بڑھتی ہوئی لعنت سے نمٹنے کےلئے متحد ردعمل اوراجتماعی ذمہ داری پر زور دیا۔ انہوں نے خبردارکیا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ نوجوان خواہ وہ اسکولوں میں ہوں، کوچنگ سینٹرز میں، یا کالجوں میں، نشے میں پھنس رہے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق ہفتہ کویہاں صحافیوں کےساتھ بات کرتے ہوئے، ڈویڑنل کمشنر کشمیر،انشول گرگ نے کہا کہ یہ مسئلہ تیزی سے شدت اختیار کر گیا ہے اور یہ کہ پچھلے ساڑھے3 سالوں میں یہ مسئلہ 3 گنا بڑھ گیا ہے، جو تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت مذہبی رہنماو¿ں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کےلئے انسداد منشیات کی آگاہی مہم کو بڑھا رہی ہے۔انشول گرگ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ایک بہت بڑی بیداری مہم چل رہی ہے اور چیف سیکرٹری ذاتی طور پر اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ IMHANS کی جانب سے وسیع پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، جس میں صحت اور تعلیمی اداروں میں کونسلرز کو تربیت دی جا رہی ہے۔ ڈویڑنل کمشنر کشمیرکاکہناتھاکہ ابتدائی مداخلت اور روک تھام کے لیے ایک مضبوط نیٹ ورک بنانے کے لیے پانچ روزہ تربیتی سیشن منعقد کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات اس کوشش میں ہاتھ ملا رہے ہیں۔ ڈویڑنل کمشنر کشمیرنے کہا کہ ہم سری نگر کے تمام مذہبی رہنماو¿ں کو اس لڑائی میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ معاشرے کو بھی اس مسئلے سے آگاہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ مدد کے خواہاں افراد کی مدد کے لیے IMHANSکے ہیلپ لائن نمبر بڑے پیمانے پر گردش کر رہے ہیں۔ ڈویڑنل کمشنر کشمیرنے مزید کہاکہ ہم مسلسل کال کرنے والوں کی مدد کرتے ہیں جو ہم سے رابطہ کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ تربیتی پروگرام ہمیں اس مدد کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے۔انشول گرگ نے کہا کہ مستقبل میں کشمیر کے تمام اضلاع میں اسی طرح کے تربیتی پروگرام منعقد کئے جائیں گے تاکہ ہر اسٹیک ہولڈر منشیات سے پاک اس مہم کا حصہ بن سکے۔انہوں نے نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ نوجوان خواہ وہ اسکولوں میں ہوں، کوچنگ سینٹرز میں، یا کالجوں میں، نشے میں پھنس رہے ہیں۔ ڈویڑنل کمشنر کشمیرنے خبردارکیاکہ خاص طور پر ہیروئن کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ یہ پورے معاشرے کےلئے ایک سنگین تشویش ہے ۔اجتماعی ذمہ داری کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈویڑنل کمشنر کشمیرانشول گرگ نے تمام سماجی اور مذہبی اداروں پر زور دیا کہ وہ فعال طور پر اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوںنے کہاکہ ایک معاشرے کے طور پر، ہم سب کو اس کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے۔ ڈویڑنل کمشنر کشمیرنے کہاکہ ہمیں نشے سے نجات کے لیے کام کرنے والے طبی اور مشاورتی اداروں کی حوصلہ افزائی اور مدد کرنی چاہیے۔






