جموں/ 7 جنوری/انفو/
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز ورچوئل طور پر جموں و کشمیر یو ٹی کے 53 رکنی نوجوانوں کے دستے کو نئی دہلی کے لیے روانہ کیا تاکہ وہ 29ویں نیشنل یوتھ فیسٹیول – وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ 2026 میں شرکت کریں۔سوامی وویکانند کی 12 جنوری کو یومِ پیدائش کی مناسبت سے نوجوانوں کے اتحاد اور بااختیار بنانے کے لیے ہر سال نیشنل یوتھ فیسٹیول کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ سال 2025 میں اس فیسٹیول کو وکست بھارت @2047 کے وڑن کے مطابق ڈھالنے کے لیے “وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ” کی شکل دی گئی۔وکست بھارت چیلنج ٹریک اور کلچرل/انوویشن ٹریک کے لیے منتخب یہ دستہ 10 سے 12 جنوری 2026 تک بھارت منڈپم، نئی دہلی میں ہونے والے اس قومی پروگرام میں جموں و کشمیر کی نمائندگی کرے گا۔ورچوئل موڈ کے ذریعے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے انہیں اس باوقار تقریب کے لیے نیک خواہشات پیش کیں اور مقامی سطح کے مقابلوں سے قومی سطح تک پہنچنے پر مبارکباد دی، جسے انہوں نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں میں موجود بے پناہ صلاحیت کا ثبوت قرار دیا۔انہوں نے کہا،“نوجوانی عمر کا نہیں بلکہ سوچ کا نام ہے۔ یہ جرات، تجسس اور تبدیلی لانے کی طاقت کا مظہر ہے۔ مجھے ہمارے نوجوانوں کی صلاحیت اور ایک ترقی یافتہ بھارت کی تشکیل کے عزم پر مکمل یقین ہے۔”سوامی وویکانند کے مشہور قول “اٹھو، جاگو اور مقصد حاصل ہونے تک نہ رکو” کا حوالہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے خوابوں کو زندگی کا واحد مقصد بنائیں اور راستے میں آنے والے ہر چیلنج کو نظم و ضبط اور صبر کا سبق سمجھیں۔انہوں نے واضح کیا کہ حقیقی قیادت ذاتی کامیابیوں سے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت سے پہچانی جاتی ہے۔انہوں نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا،“آپ کی سب سے بڑی ذمہ داری سماج اور قوم کے تئیں ہے۔ حقیقی ترقی دوسروں کے آگے بڑھنے کے لیے مواقع پیدا کرنے میں ہے۔ مستقبل کی صلاحیتیں پیدا کریں، کردار سازی پر توجہ دیں اور زندگی بھر سیکھنے کے عمل کو اپنائیں۔ نڈر بنیں، حدود سے باہر سوچیں۔ آپ کی جرات، نظم و ضبط، وضاحت اور عزم، تجربے کے ساتھ مل کر وکست بھارت کے سفر میں آپ کی رہنمائی کرے گا۔”اس موقع پر محترمہ یاشا مدگل، کمشنر/سیکریٹری یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس، محترمہ انورا دھا گپتا، ڈائریکٹر جنرل یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس، سینئر افسران، شریک نوجوان اور دستے کے ہمراہ آنے والے افسران موجود تھے۔






