نئی دلی// مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس اور ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج مطلع کیا کہ ‘ رکروٹمنٹ پلان کے مطابق خالی آسامیوں کو پر کرنے کی پیش رفت کو مربوط کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔ڈی او پی ٹی، ڈی اے آر پی جی اور محکمہ پنشن کی مشترکہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ یہ میٹنگ وزیر اعظم جناب نریندر
مودی کی طرف سے اگلے 1.5 سالوں میں مشن موڈ میں 10 لاکھ لوگوں کو بھرتی کرنے کی ہدایت کے تناظر میں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، تمام وزارتوں/محکموں سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ دسمبر 2023 تک تازہ ترین اسامیوں کو پُر کرنے کا منصوبہ بنائیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ڈی او پی ٹی کے افسران، خاص طور پر سی ایس ڈویژن اور یو پی ایس سی کی بھی تعریف کی جنہوں نے ایک ہی بار میں 8,000 سے زیادہ سرکاری ملازمین کو بڑے پیمانے پر ترقی دینے کے لیے سخت محنت کی۔ سینٹرل سیکریٹریٹ سروس (سی ایس ایس(، سینٹرل سیکریٹریٹ اسٹینوگرافرز سروس (سی ایس ایس ایس) اور سینٹرل سیکریٹریٹ کلریکل سروس (سی ایس سی ایس) سے تعلق رکھنے والے ان ملازمین کی بڑے پیمانے پر پروموشن کے احکامات یکم جولائی 2022 سے پہلے لاگو ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، یہ ایک بہت بڑا کام تھا کیونکہ اس میں تینوں محکموں کے کے تمام درجات میں سلیکٹ لسٹوں کی تیاری شامل تھی جو 5-10 سالوں سے زیر التواء تھیں۔ سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر التواء قانونی چارہ جوئی کی وجہ سے تمام گریڈوں میں تینوں خدمات میں ترقیاں روک دی گئیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ای فائل ورژن 7.2 کو اپنانے کے 6 ماہ کے اندر ای-آفس موڈ میں 70 فیصد کام کرنے کے لیے ڈی او پی ٹی کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ سی وی سی، سی آئی سی وغیرہ سے متعلق کچھ حساس فائلوں کو چھوڑ کر 100 فیصد ای-آفس تعمیل حاصل کریں۔






