احمد آباد نئی دہلی//بھارت آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے اور 25 سال بعد آزادی کا صد سالہ جشن منائے گا، ایسی صورت حال میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے سہکار سے سمردھی (تعاون کے ذریعے خوشحالی) کا عزم قوم کے سامنے رکھا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بینکنگ سیکٹر میں اصلاحات کی وجہ سے شہریوں کو بینکنگ خدمات کا فائدہ مل رہا ہے مودی نے کواپریٹو سیکٹر کو ملک کی خوشحالی اور اقتصادی ترقی میں تعاون کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
آج گجرات کے سہکاری مہاکمب میں 70 سال مکمل کرنے کے بعد یہ زرعی بینک 71 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے اور میں ، کسانوں اور بینک سے وابستہ دیگر لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔گجرات اسٹیٹ کواپریٹو ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ بینک لمیٹیڈ، جسے کھیتی بینک کے نام سے جانا جاتا ہے، 1951 ءمیں قائم کیا گیا تھا اور اس کا قیام تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔سردار پٹیل کی تحریک اور پوربندر کے شہزادے ادے بھان سنگھ جی کی کوششوں سے ہزاروں کسان زمین کے مالک بن گئے اور اس زرعی بینک نے کسانوں کو زمین کا مالک بنانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔
کھیتی بینک نے بہت سے کسانوں کو ساہوکاروں کے چنگل سے آزاد کرایا ہے اور اس زرعی بینک نے گجرات کے زراعت کے سیکٹر میں وسیع تعاون کیا ہے۔کھیتی بینک زراعت کے بنیادی ڈھانچے کے لئے گجرات میں کسانوں کو درمیانی اور طویل مدتی قرض فراہم کر رہا ہے۔نبارڈ کے قیام کے بعد زرعی بینکوں کی نوعیت میں قدرے تبدیلی آئی اور زراعت کے ساتھ ساتھ ان بینکوں نے دیہی ترقی، کاٹیج انڈسٹریز، ڈیری اور خود روزگار کے لئے قرضے دینا شروع کردیے۔داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ نے آج نئی دلّی سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے احمد آباد میں منعقدہ گجرات اسٹیٹ کواپریٹو ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ بینک لمیٹڈ کی 70 ویں اے جی ایم سے خطاب کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ آج بھارت آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے اور 25 سال بعد آزادی کا صد سالہ جشن منائے گا۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے سہکار سے سمردھی (تعاون کے ذریعے خوشحالی) کا عزم قوم کے سامنے رکھا ہے۔ جناب مودی نے کواپریٹو سیکٹر کو ملک کی خوشحالی اور اقتصادی ترقی میں تعاون کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ آج، گجرات کے سہکاری مہاکمب میں 70 سال مکمل کرنے کے بعد، یہ زرعی بینک 71 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے۔ میں ، اس موقع پر کسانوں اور بینک سے جڑے دیگر لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔





