’بھاجپا نے جموں کے حقیقی مسائل کو کبھی اُجاگر نہ کیا، لوگوں سے روایتی سیاسی جماعتوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل‘
ریذیڈنسی روڈ جموں اور تاریخی رگھوناتھ بازار میں ویرانی، سیاحت ختم ،اپنی پارٹی اقتدار میں آئی تو 24گھنٹوں کے اندر دربارمووکو بحال کریں گے
جموں// اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر ڈوگرہ کی عظیم ثقافت وشناخت کو مٹانے، شہر جموں کی تاریخی حیثیت کو ختم کرنے اور یہاں پر سیاحت کو بڑا نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے اِس جماعت کو بھاری منڈیٹ دیا، اُنہیں لوگوں کا بھاجپا نے جذباتی نعروں سے استحصال کیا اور تعمیر وترقی کے لحاظ سے اُنہیں پسماندہ کردیا۔ اِن باتوں کا ذکربخاری نے ہفتہ کے روز شہیدی چوک جموں میں منعقدہ اپنی پارٹی ورکروں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پرانے ِ شہر جموں میں الطاف بخاری کا سماج کے مختلف طبقہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے نزد گمت بازار جیول چو، رگھوناتھ بازار چوک اور دیگر علاقوں میں پارٹی لیڈران اور ورکروں نے الطاف بخاری کا روایتی انداز میں استقبال کیا ۔اس کنونشن میں اپنی پارٹی سنیئر نائب صدر غلام حسن میر، نائب صدر چودھری ذوالفقار علی، سابقہ وزیر اور سنیئرلیڈر دلاور میر، صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ، ترجمان سنیئر ایڈووکیٹ نرمل کوتوال، معاون جنرل سیکریٹری ارون کمار چبر، صدر اپنی ٹریڈ یونین اعجاز کاظمی، ایس ٹی ونگ ریاستی صدر سلیم عالم، صوبائی سیکریٹری/ضلع صدر جموں اربن ڈاکٹر روہت گپتا وغیرہ نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں الطاف بخاری نے شاندار استقبال کے لئے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا”میں اِس تاریخی شہر میں ہمارا استقبال کرنے والوں کاشکرگذار ہوں،جب میں ریذیڈنسی روڈ کی طرف آرہاتھا تواُن دنوں کو یاد کیا جب یہ شہر جموں کا دل تھا لیکن اِس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیاگیا، ہم نے اپنا بچپن ریذیڈنسی روڈ پر دیکھا ہے لیکن اِس حکومت نے ریزیڈنسی روڈ کوتباہ کر دیا جو یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ بدقسمتی سے وہ (بھارتیہ جنتا پارٹی) یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جموں وکشمیر کی خواہشات کی ترجمانی کرتے ہیں لیکن عملی طور ایسا کچھ نہیں دکھائی دے رہا۔
تاریخی شہر اور معروف ریذیڈنسی روڈ کی ویرانگی دیکھ کر اُن کے بلند دعووں کی صداقت معلوم ہوجاتی ہے“جموں کے لوگوں کو درپیش مسائل، ناقص نکاسی ِآب نظام، بنیادی سہولیات کے فقدان، جگہ جگہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر اور کاروباریوں کی خستہ حالی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بخاری نے حکمران جماعت سے وابستہ لیڈران سے سوالیہ انداز میں کہا”کیا جموں کے لوگوں نے اُنہیں منڈیٹ اِس لئے دیاتھاکہ وہ 100سالہ پرانی دربارموو روایت کو ختم کریں، وہ جموں کے کاروبار کو بند کردیں“ ۔ انہوں نے لوگوں کاجذباتی نعروں سے استحصال کرنے کے لئے بی جے پی کی تنقید کرتے ہوئے کہا”اُنہوں(بی جے پی)نے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلا، شاندار رگھوناتھ بازار کی چہل پہل ختم کر دی، جموں کے کاروبار اور سیاحتی شعبہ کو برباد کیا۔ ملک کے دیگر حصوں سے راست کٹرہ تک ٹرین شروع کرنے سے جموں کا کاروباری بُری طرح متاثر ہوا اور جموں میں سیاحتی اعتبار سے اہمیت کے حامل مقامات کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانے کے لئے حکومت کی طرف سے کوئی کوشش نہ کی گئی“۔الطاف بخاری نے کہاکہ بی جے پی دعویٰ کر رہی تھی کہ دفعہ 370اور دفعہ35 کی منسوخی کی وجہ سے جموں کو مشکلات کا سامنا ہے ، چنانچہ انہوں نے خصوصی درجے کو منسوخ کر دیا اور یہ دعویٰ کیاکہ اِس سے امتیاز کا خاتمہ ہوگا، لیکن ایسا ہوا کچھ نہیں بلکہ صرف انہوں نے اپنے 60سالہ پرانے نعرے کو پورا کیا۔
انہوں نے کنونشن میں موجود لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے سوال کیا”کیا پانچ اگست 2019کے بعد آپ کو کوئی مثبت تبدیلی نظر آئی؟آج آپ اس صورتحال کے گواہ ہیں کہ جموں شہر بد سے بدتر ہو گیا ہے۔ جموں ترقیاتی لحاظ سے پچھڑگیااور نوجوان سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ اس وقت، جب میں یہاں کنونشن میں بول رہا ہوں تو ہمارے نوجوان محکمہ خزانہ کے اکاو ¿نٹ اسسٹنٹ، جموں و کشمیر کے سب انسپکٹرز کے اُمیدوار اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اپنے حقیقی مطالبات کے لیے احتجاج کر رہے ہیں“۔پولیس سب انسپکٹر بھرتی گھوٹالہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بخاری نے کہا”اگر سب انسپکٹر کا پرچہ افشاں کرنے میں کوئی ملوث ہے تو پھر کیوں پوری فہرست منسوخ کی گئی، یہ انصاف نہیں۔انہوں نے مزید کہا”جموں وکشمیر میں صورتحال اُسی صورت میں بہتر ہوگی اگر روایتی سیاسی جماعتوں بی جے پی، کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی سیاست کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا جائے گا کیونکہ یہی اِس موجودہ صورتحال کے لئے ذمہ دار ہیں جنہوں نے مذہب، علاقہ، ذات، خود مختیاری، سیلف رول، ایک نشان، ایک ودھان اور دیگر جذباتی نعروں لوگوں کا استحصال کیا جبکہ اُن کے دعوو ں میں کوئی صداقت نہیں، ہم لوگوں کو اُکساتے نہیں ، نہ ہی اُنہیں کوئی گمراہ کن نعرے دیکر کسی تنازعے کا شکار بنانا چاہتے ہیں، اپنی پارٹی دونوں خطوں کے لوگوں کو متحد رکھنا اور اُن کی خواہشات کے مطابق اُنہیں نمائندگی دینا چاہتی ہے۔
اپنی پارٹی صدر کا مزید کہناتھاکہ ”جموں کے لوگ بھی ویسے ہی ترقی، روزگار کا تحفظ اور اپنی شناخت چاہتے ہیں ، جیسے کشمیر کے لوگ۔ وہ وقت چلاگیا جب روایتی سیاسی جماعتیں سیلف رول یا خود مختیاری کے نعرے لگاتی تھیں۔ایسے سیاستدان اپنے گھروں میںبیٹھے ہیں۔ اِنہوں نے 70سالوں تک جموں وکشمیر کے لوگوں کو گمراہ کیا، البتہ اپنی پارٹی ایسے تفرقہ انگیز عناصرکیخلاف لڑائی لڑے گی“انہوں نے کہاکہ پچھلے چارسالوں سے براہ ِ راست جموں وکشمیر پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور جموں میںروزگار، ترقی اور دیگر شعبہ جات میں صورتحال بدسے بدتر ہوگئی ہے۔اِس حکومت میں کوئی کشمیری شامل نہ تھا، پھر بھی جموں کے لوگ بُری طرح متاثر ہوئے،بی جے پی اور کانگریس جماعتیں جموں وکشمیر کے لوگوں کو دو خطوں میں تقسیم کرنے اور بد اعتمادپیدا کرنے کی ذمہ داری ہیں۔ یہ دونوں سیاسی جماعتیں پچھلے ستر سالوں سے اقتدار میں رہی ہیں لیکن انہوں نے ترقی نہیں کی بلکہ وہ ٹرانسفر انڈسٹری میں ہی مصروف رہے۔انہوں نے لوگوں سے کہاکہ کیا آپ تعلیمی نظام، ناقص ڈھانچہ اور اسکول عمارتوں کی تعمیر میں تجدید پر فکرمند ہوئے؟۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ 90فیصد سرکاری گرلز اسکولوں میں ٹائلٹ نہیں؟۔بجلی کا سنگین مسئلہ ہے۔ جموں میں گوناگوں مسائل ہونے کے باوجود آپ نے کبھی یہ مسائل اُجاگر نہیں کیا لیکن بی جے پی ہمیشہ ایس ایچ او، تحصیلدار اور سرکاری افسران کو تبدیل کرنے میں ہی مصروف رہی۔جموں میں بہترصحت نظام مہیا کرنے میں بھاجپا کی ناکامی پر سوال اُٹھاتے ہوئے بخاری نے کہاکہ مریضوں کو خصوصی علاج ومعالجہ کے لئے بیرون ِ جموں وکشمیر امرتسر، پنجاب اور دہلی جانا پڑتا ہے ۔
انہوں نے مزیدکہا”آج وہ کہہ رہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں انتخابات ہوں گے۔ پنجاب، دہلی، مہاراشٹرہ اور دیگر ریاستوں کی طرح آئین ِ ہند نے ہمیں بھی یکساں حقوق دیئے ہیں۔ کٹھوعہ، سانبہ، آر ایس پورہ، اکھنور، راجوری، پونچھ، کرناہ، اُوڑی، گریز اور دیگر سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو اُن کی طرف سے دی گئی قربانیوں کویاد کرتے ہوئے بخاری نے کہا”ہم ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے خصوصی ہیں کیونکہ ہم قربانیوں اور حب الوطنی کے لئے جانے جاتے ہیں، دشمن کی گولی راست ہماری چھاتی پر لگتی ہے لیکن پھر بھی ہم نے پیٹھ نہیں دکھائی اور لگاتار اپنی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ جو دہلی، بہار اور اُترپردیش میں بیٹھے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ قربانی کیا ہوتی ہے لیکن پھر بھی ہمیں نیشنل ازم کا درس دے رہے ہیں، اگر اُنہیں حب الوطنی سیکھنی ہے تو جموں وکشمیر کے لوگوں سے سیکھیں ، ہمیں کسی دوسرے سے سیکھنے کی ہرگزضرورت نہیں“۔انہوں نے کہا”ہماری ریاست تین ٹکڑوں میں تقسیم تھی۔ ایک حصہ چین کو دے دیاگیاتھا، ایک حصے کو لداخ یونین ٹیراٹری اور دوسرے کو جموں وکشمیر یوٹی بنادیاگیا۔ لوگوں کو یہ بات بغورسُننی اور سمجھنی چاہئے کہ بی جے پی نے اُن کا جذباتی استحصال کیا ہے اِس کے علاوہ منڈیٹ حاصل کرنے کے بعد لوگوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ لہٰذا اپنی پارٹی کو موقع دیاجانا چاہئے تاکہ وہ دونوں خطوں کے لوگوں کو انصاف فراہم کیاجاسکے۔انہوں نے جموں وکشمیر میں 15سالوں سے رہنے والے لوگوں کو ڈومیسائل دینے کی بھی مذمت کی اور کہاکہ ”حکومت جموں وکشمیر کے مستقل شہریوں کو ’مستقل باشندہ سند‘ رکھنے کی اجازت نہیں دے رہی جوکہ ہماری شناخت ہے۔
جموں سے وزیر اعلیٰ بنانے کا دعویٰ کر رہی بھاجپا سے الطاف بخاری نے سوال کیاکہ ”یہ وہی بی جے پی ہے جو پی ڈی پی کے ساتھ اقتدار میں آئی ، جس نے جموں میں اِسی جماعت کے خلاف الیکشن لڑے تھے اور لوگوں کا منڈیٹ حاصل کیاتھا۔ اِنہوں نے ماسوائے خصوصی درجہ ختم کرنے ، ڈوگرہ شناخت مٹانے، ریاستی درجہ کی تنزلی اور تاریخی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے سوا کچھ نہ کیا“الطاف بخاری نے کہاکہ اپنی پارٹی سرکاری شعبوں میں روزگار ، صنعتی شعبوں میں روزگار کے مواقعے ، نوکریوں کو تحفظ، قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بناکر جموں اور کشمیر کے لوگوں سے انصاف کرے گی، اگر اپنی پارٹی اقتدار میں آئی تو قدرتی وسائل کا استحصال کرنے والے غیر مقامی افراد کو لکھن پور سے آگے کیاجائے گا۔جموں وکشمیر پولیس کے سب انسپکٹروں کی سلیکشن لسٹ منسوخ کرنے کے فیصلے کی تنقید کرتے ہوئے بخاری نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ وہ بارڈربٹالین، سی آئی ایس ایف، بی ایس ایف، سب انسپکٹر، محکمہ خزانہ کے اکاوٹ اسسٹنٹ کے جائز مطالبا ت کو حل کرے۔انہوں نے کہاکہ ملزم افراد کو سزا دی جانی چاہئے تھی ، حکومت نے تو بے گناہ اُمیدواروں کو بھی سزا دے دی جوکہ کئی سالوں سے سخت محنت کر رہے تھے۔
اپنے خطاب کے آخر میں الطاف بخاری نے پارٹی کے ترقیاتی ایجنڈا اور حقیقت پسندانہ منشور کو دوہراتے ہوئے کہا”اگر اپنی پارٹی اقتدار میں آئی تو گرمائی ایام کے دوران جموں صوبہ میں 500اور کشمیر میں 300یونٹ بجلی مفت دی جائے گی۔ اسی طرح سرمائی ایام کے دوران کشمیر میں500یونٹ اور جموں میں 300یونٹ بجلی مفت دی جائے گی۔ پردھان منتری اجولہ یوجنہ کے تحت سال میں چار سلنڈر مفت دیئے جائیں گے۔ بیوہ اور ضیف العمر پنشن ماہانہ 5000ہزار روپے کی جائے گی، اسکول اور صحت مراکز کی تجدید اور اُن میں مطلوبہ عملہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں میں صحت وتعلیمی نظام بہتر بنایاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ 90فیصد سرکاری گرلز اسکولوں میں ٹائلٹ نہیں، اگر اپنی پارٹی اقتدار میں آئی تو بلا امتیاز ڈھانچہ کو بہتر بنایاجائے گا۔اِس یک روزہ کنونشن میں بودھ راج بھگت، رمن تھاپا، پشپ کمار اوپل، مدن لال چلوترہ، خشبوبھگت، ہرپریت سیٹھی، کلونت سنگھ، روپالی رانی، نشا شرما، پونیت کمار، وکرم راٹھور، شیخ لطیف، ذولقرنین شیخ، درشن مہرہ، رقیق احمد خان، ابہے بقایہ، وپل بالی، انوج شرما، وائی بہو مٹو، سنی کانت چب، سہیل کھجوریہ، جوگیندر سنگھ، امجد خان، گورو شرما، اشر ف چودھری، آصف، نکھل، کلونت سنگھ، سندیپ وید، انکوش ڈوگرہ، سنی سمبیال، ارشاد معصوم، اوم سنگھ، ابھینو، مانک، سردیش رانا، منجیت سنگھ، ویشال زوتشی، امانت علی شاہ، آفاق کاظمی، سنجے للوترہ، وجے منوترہ، شکتی دیو، راجہ بی بی، منجیت ، انیل ،وکاس، دھرم سنگھ سہنی، اکشے، دیو راج، مانو، نکھل، سورو، شکنتلا، رجنی، نیلم اور ممتا وغیرہ بھی موجود تھے۔






