سری نگر//انفو// جموںوکشمیر حکومت نے جموںوکشمیر یوٹی میں ڈیری سیکٹر کو بہتر بنانے کے لئے سکیمیں وضع کی ہیں جو سکیمیں لوگوں کی سماجی و اِقتصادی حالت کو بہتر بنائے گی۔اِنتظامیہ ڈیر ی شعبے سے وابستہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے مقصد سے انتھک محنت کر رہی ہے اور اِس کو یقینی بنانے کے لئے مختلف ترقیاتی سکیموں ، اِقدامات ، پالیسیاں وغیرہ عملانے سے جموں وکشمیر یوٹی میں ڈیری شعبے کی ترقی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جارہی ہے ۔
اِنٹگریٹیڈ ڈیر ی ڈیولپمنٹ سکیم ( آئی ڈی ڈی ایس ) ایک او رسکیم ہے جو نہ صرف مالی اِمداد فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے بلکہ 50فیصد سبسڈی پرمِلکنگ مشین ، بَلک مِلک کولنگ یونٹ فراہم کر کے ڈیری پروڈیو سر کی مددبھی کرتی ہے ۔ اِس سکیم کے تحت پنیر بنانے کی مشین ، کھویا بنانے ، دہی بنانے ، کریم کو الگ کرنے والا ، آئس کریم بنانے کی مشین ، مکھن اور گھی بنانے کی مشین ، مِلک وین ، مِلک اے ٹی ایم اور ڈی جی سیٹ بھی خواہش مند کاروباری اَفراد کے لئے فراہم کیا جاتا ہے جو ڈیری شعبہ میں اَپنے سٹارٹ اَپس بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔فلیگ شپ سکیمیں جس میں راشٹر یہ گوکل مشن ، آئی ڈی ڈی ایس ، ڈیری ڈیولپمنٹ سکیم ( ڈی ڈی ایس ) ، فیڈ اینڈ فورڈر ڈیولپمنٹ سکیم ( ایف اینڈ ایف ڈی ایس ) ، اینمل ہسبنڈری اِنفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ ، پشو پالن کسانوں کے لئے کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولیت کی توسیع ، قبائلی ذیلی منصوبہ کے تحت کلسٹر ماڈل مِلک وِلیج کا قیام وغیرہ شامل ہیں ،کی عمل آوری سے ڈیری شعبہ فروغ حاصل کر رہا ہے۔ڈیری شعبہ نے روزگار کے مواقع پید اکئے ہیں ، کاروباری ترقی کی راہ بہتر کی ہے اور اِس طرح ڈیری فارمنگ کو تجارتی خطو ط پر ایک کاروباری اِدارے کے طور پر ترقی دینے کی کافی گنجائش پیدا کی ہے۔
اِن سکیموں کی وجہ سے ہی وادی میں دودھ کی پیداوار میں گذشتہ دو دہائیوں میں 250 فیصد سے زیادہ اِضافہ ہوا ہے اور اَب وادی میںزائد اَز 50,000 کامیاب کمرشل ڈیری یونٹس ہیں۔موجودہ شہری ترقی کے باوجود ڈیری سیکٹر محفوظ اور دیرپا دیہی علاقوں کی ترقی میں اَپنا حصہ اَدا کرتا ہے۔بنکوٹ ضلع رام کے منظور احمد نے ایک چھوٹی سی دُکان میں خشک میوہ جات بیچنے اور اَپنے کنبے کی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطراَپنی کوشش سے ایک ڈیری فارم چلارہا ہے جو روزانہ تقریباً 200 لیٹر دودھ فروخت کرتا ہے ۔ اِس طرح منظور احمد نے ایک کاروباری شخصیت کے طور پر ایک طویل سفر طے کیا ہے ۔منظور احمد نے اِنٹگریٹیڈ ڈیری ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت اینمل ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے منظور شدہ چار گائیوں کے ساتھ بنکوٹ بانہال میں اَپنا ڈیری فارم شروع کیا ۔
منظور احمد روزانہ تقریباً200 لیٹر دودھ فروخت کرتا ہے اور اَپنے فارم میں چار مقامی ملازمین اور منافع سے 3لاکھ روپے کی ماہانہ فروخت درج کیا ہے۔اُنہوں نے اَپنے ڈیری فارم کو بڑھانے کے لئے مالی مدد فراہم کرنے پر حکومت کا شکریہ اَدا کیا۔وہ اَپنے ڈیری فارم کو اَپ گریڈ کرنے اور مِلکنگ مشین ، مِلک کولر ، اے ٹی ایم مِلک مشین اور ایک جَن سیٹ جیسی تمام مشینیں لگانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔حکومت کوآپریٹیو پر بھی کام کر رہی ہے کیو ں کہ اِس سے دودھ کی پیداوار کو منافع بخش بنانے میں مدد ملتی ہے ۔جموںوکشمیر مِلک پروڈیوسر کو آپریٹیو لمٹیڈ ( جے کے ایم پی سی ایل) دودھ کی پیداوار کی 50,000 ایل پی ڈی سے 3لاکھ ایل پی ڈی کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے کام کر رہا ہے۔اِسی طرح بانڈی پورہ کے مَدر علاقے سے تعلق رکھنے والے طاہر احمد راتھر نے سال 2020ء میں اینمل ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے ایک ڈیری فارم شروع کیا ۔
آج اُس کے پاس آٹھ گائیں ہیں جو روزانہ 90سے 95لیٹر سے زیادہ دودھ دیتی ہیں۔طاہر احمد راتھر کے والد بشیر احمد راتھر بھی ان کے ساتھ فارم میں کام کرتے ہیں اور وہ بانڈی پورہ میں دودھ تقسیم کر کے ضلع میں لوگوں کی دودھ کی ضروریات کو پور ا کرتے ہیں۔طاہر احمد راتھر نے اَپنے منصوبے کی کامیابی کے بارے میں کہا ،’’ میں نے یہ ڈیری فارم 2020ء میں شروع کیا تھا اور یہ میری روزی روٹی کمانے میں مدد کر رہا ہے ۔ میں اینمل ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ بانڈی پورہ کا مشکور ہوں جنہوں نے اِس یونٹ کو قائم کرنے میں میری مدد کی۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ جموںوکشمیر اِنتظامیہ نے ضلع رِیاسی میں جیری بستی کو یونین ٹیریٹری کا پہلا’’ مِلک وِلیج‘‘ قرار دیا ہے اور اِس بستی کے لئے اِنٹگریٹیڈ ڈیری ڈیولپمنٹ سکیم ( آئی ڈی ڈی ایس ) کے تحت مزید 57 ڈیری فارموں کو منظور ی دی ہے ۔
متعدد سکیموں کے علاوہ حکومت مویشیوں کی جینیاتی اَپ گریڈیشن، مویشیوں کو شامل کرنے، چارے کی ترقی، دودھ کی خریداری اور پروسسنگ اور ہیلتھ کوریج اور رسک مینجمنٹ جیسے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی قیادت میں جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ کسانوں کی حالت کو بہتر بنانے،ان کی آمدنی بڑھانے اور 2022ء تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے خواب کو پورا کرنے کے لئے اَنتھک محنت کر رہی ہے۔






