لیفٹیننٹ گورنر نے یوٹی میں ’ کماﺅن لٹریری فیسٹول “ کا اِفتتاح کیا
قوم وزیر اعظم کی قیادت میں اِقتصادی ، ثقافتی اور سائنسی نشاة ثانیہ کا مشاہدہ کر رہی ہے ۔ ایل جی
سری نگرانفولیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج کشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں کماﺅن لٹریری فیسٹول کا اِفتتاح کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ فیسٹول ملک کے نامور مصنفین ، شعراء، مفکرین کو فن ، ثقافت اور اَدب کا جشن منانے کے لئے اِکٹھا کرتا ہے او رلوگوں کو نئے خیالات اور نقطہ نظر کو تلاش کرنے کا موقعہ فراہم کرتا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر ایک اَدبی روایت کا گھر ہے جو کئی ہزار سال پرانا ہے او رعلم کی ہماری جستجو جاری ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں جموںوکشمیر کی ثقافت ، فن ، اَدب ، سنیما اور موسیقی کے احیاءاور فروغ کے لئے گذشتہ دو برسوں سے اہم کوششیں کی جارہی ہےں۔اُنہوں نے کہا کہ قوم وزیر اعظم کی قیادت میں معاشی ، ثقافتی اور سائنسی نشاة ثانیہ کا مشاہدہ کر رہی ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہماری قدیم اَدبی ثقافت اور اَقدار بھرپور اور متنوع ہیں اور ہمیشہ اَمن ، بقائے باہمی اور بھائی چارے کے راستے پر ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے ثقافت کو زندگی کا ایک طریقہ اور آئینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگوں کی اُمنگوں اور سماجی و اِقتصادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ مقامی فن کاروں او رلوگوں کو آرٹ ، ہیر ٹیج سائٹس وغیرہ کی دیکھ دیکھ اور فروغ میں شراکت دار کے طور پر شامل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہےں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جموںوکشمیر کے مشہور اَدیبوں اور مفکرین کے تعاون کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہماری عظیم قوم کی ثقافتی اَقدار قدیم زمانے سے جموںوکشمیر یوٹی کے ساتھ گہرا جڑی ہوئی ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ کہانی سنانے سے لے کر کلاسیکی ہندوستانی موسیقی تک جموںو کشمیر مختلف تخلیقی ذرائع کی سرزمین ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر کے معزز ادیبوں کی ایک بڑی تعداد ہے جنہوں نے ہندوستان کی ثقافتی تاریخ کو تقویت بخشی ہے ۔ مجھے یقین کہ ماضی خوشحال تھا اور لکھنے والوں کی نئی نسل اسے مزید بلندیوں تک لے جائے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کشمیری ، پہاڑی ، گوجری ، ڈوگری ، پنجابی سمیت مقامی زبانوں کو فروغ دینے کی کوششوں پر بھی بات کی۔اُنہوں نے کہا کہ یوٹی حکومت جموں وکشمیر کے باصلاحیت نوجوان مصنفین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے صحیح پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے گذشتہ برس شروع کی گئی جموںوکشمیر کی فلم پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی نے جموںوکشمیر یوٹی کے دِلکش مقامات پر فلموں کی شوٹنگ میں سہولیت فراہم کی ہے اور بالی ووڈ کا 70سے 80 کی دہائی کا سنہری دور بحال ہو رہا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اِنتظامیہ نے شوپیاں ، پلوامہ ، سری نگر میں سنیما ہال شروع کئے ہیں اور ہر ضلع میں سنیما ہال شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس برس ستمبر تک ریکارڈ 1.60 کروڑ روپے سیاح جموںوکشمیر آئے تھے جو کہ جموںوکشمیر کی ترقی کی ایک مثبت علامت ہے۔مصنف اور چیئرمین ، وزیر اعظم کی اِقتصادی مشاورتی کونسل ڈاکٹر بی بیک دیبرائے نے کشمیر کی اَدبی ، ثقافتی اور تاریخی میراث پر بات کی ۔اُنہوں نے کشمیر اور شاردا پیٹھ کے تعلق سے بھی روشنی ڈالی۔تجربہ کار فلم ساز راہل رویل نے کشمیرمیں فلم بنانے کے شاندار دِنوں کا مشاہدہ کرنے پر اَپنی خوشی کا اِظہار کیا۔کماﺅن لٹریری فیسٹول کی شریک بانی محترمہ آشا بترا نے کہا کہ ہمیں کماﺅن لٹریری فیسٹول کے کشمیر ایڈیشن کا اِنعقاد کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے ۔ اُنہوں نے فیسٹول میں تعاون کے لئے جموںوکشمیر یوٹی حکومت کا بھی شکریہ اَدا کیا۔کشمیر کے یمبرزل اپلائیڈ ریسرچ اِنسٹی چیوٹ ( کے وائی اے آر آئی ) کے بانی اَرہان بگاتی نے اَپنے خطبہ اِستقبالیہ میں فیسٹول کے مقاصد اور نظریہ¿ پر روشنی ڈالی۔اِس موقعہ پر صوبائی کمشنر کشمیر پانڈورانگ کے پولے ، ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر محمد اعجاز ، اَدبی میدان او رفلمی دُنیا کی نامور شخصیات کے علاوہ ملک بھر سے ادیب ، مفکر ، ادیب اور فن کار بھی موجود تھے۔






