جموں کشمیر میں امن بگاڑنے میںملوث افراد کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی
پولیس شہداءکی عظیم قربانیوں سے جموں و کشمیر کے لوگ راحت کی سانس آزاد ہوا میں لیں رہے ہیں / لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا
سرینگر21اکتوبر سی این آئی جموں کشمیر میں کسی کو بھی امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کی بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جو لوگ ”امن کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں انہیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی“۔ جموں و کشمیر میں امن قائم کرنے کیلئے پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کی ستائش کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منو ج سنہا نے کہا کہ پچھلے تین سالوں میں عسکریت پسندی کا صفایا کرنے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا، ”ہم عسکریت پسندی اور علیحدگی پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر کے آرمڈ پولیس کمپلیکس زیوان میں یوم پولیس یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ پولیس فورس گزشتہ تین دہائیوں سے UT میں قابل ستائش کام کر رہی ہے۔ ”چاہے یہ امن و امان برقرار رکھنا ہو، دہشت گردی سے لڑنا ہو، ٹریفک کا انتظام ہو یا روز بروز جرائم پر قابو پانا ہو، پولیس سب سے آگے ہے“انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے خطے میں امن قائم کرنے اور ”دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے” میں عظیم قربانیاں پیش کی ہیں“۔ لیکن اب بھی کچھ عناصر ایسے ہیں جو ہمارے پڑوسی ملک کے کہنے پر امن کو خراب کرنے کی سازشیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایل جی سنہا نے کہا کہ وہ عناصر جو جموں و کشمیر میں امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز شہداءکے اہل خانہ کی طرف سے بہائے گئے آنسوو¿ں کے ہر قطرے کا بدلہ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے خطے میں امن قائم کرنے اور “دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے” میں عظیم قربانیاں پیش کی ہیں۔ لیکن اب بھی کچھ عناصر ایسے ہیں جو ہمارے پڑوسی ملک کے کہنے پر امن کو خراب کرنے کی سازشیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایل جی سنہا نے کہا کہ وہ عناصر جو جموں و کشمیر میں امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز شہدائ کے اہل خانہ کی طرف سے بہائے گئے آنسوو¿ں کے ہر قطرے کا بدلہ لیں گے۔انہوں نے کہا، ”شہداءکو بہترین خراج عقیدت دہشت گردی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنا ہو گا،“ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح سے اقلیتوں اور غیر مقامی مزدوروں کے وحشیانہ قتل کی مذمت کے لیے معاشرے کا ہر طبقہ سڑکوں پر نکل آیا ہے، اس کا مطلب ہے اور کہ ”دہشت گردی بستر مرگ پر تھی اور زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہے گی۔“کسی سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جو لوگ اپنے ذاتی فائدے کیلئے بے گناہوں کے قتل کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ دراصل ملک کی خودمختاری اور سالمیت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ سنہا نے کہا، ”میں یہاں یہ بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایسے لوگوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔جموں و کشمیر میں امن قائم کرنے کے لیے پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کی ستائش کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر سنہا نے کہا کہ پچھلے تین سالوں میں عسکریت پسندی کا صفایا کرنے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا، ”ہم عسکریت پسندی اور علیحدگی پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں،“ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پولیس کی عظیم شراکت اور پولیس شہداءکی عظیم قربانیوں کی وجہ سے ہے کہ آج جموں و کشمیر کے لوگ راحت کی سانس لے رہے ہیں۔ اور آزاد ہوا میں سانس لینا۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس اپنے فوری ایکشن ردعمل کے ذریعے منشیات کی دہشت گردی کے نئے چیلنج سے لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا،”ہم نے پولیس فورس کو دہشت گردی اور اس سے متعلق دیگر چیلنجز سے لڑنے کے لیے تمام جدید آلات اور جدید ذرائع فراہم کرنے کا عہد کیا ہے“۔”ایل جی نے کہا کہ انتظامیہ فلاحی اسکیموں، مالی امداد اور بچوں کی تعلیم کے ذریعے پولیس شہداءکے خاندانوں کی بہبود کیلئے پرعزم ہے۔






