دہشت گردی اور مذکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے / لیفٹنٹ گورنر سنہا
سرینگر13/دسمبر/ سی این آئی/ جموں کشمیر میں ”ملی ٹنسی اور بات چیت “ایک ساتھ ممکن نہیں ہے کا اعلان کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ مرکزی حکومت کی پالیسی ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس وقت تک بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب تک وہ ملی ٹنسی کی حمایت بند نہیں کرتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی حمایت یافتہ ملی ٹنسی کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کیلئے کارروائیاں جاری ہے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ملی ٹنسی بند ہونے تک پاکستان کے ساتھ بات چیت کا کوئی سوال ہی نہیں ہے اور اس سلسلے میںمرکزی سرکا ر کی پالیسی واضح ہے ۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی اور بعض اوقات نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت کچھ سیاسی لیڈران کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان سے بات چیت کا مطالبہ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی ملی ٹنسی سے کئی معصوم جانیں ضائع ہوئیں لیکن گزشتہ تین سالوں کے دوران ملی ٹنٹوں اور علیحدگی پسندوں اور ان کی قیادت کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ عسکریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ملی ٹنسی ،علیحدگی پسندی اور ان کے ماحولیاتی نظام کی باقیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔ ہماری کوششیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک جموں و کشمیر میں ملی ٹنسی کی آخری علامت کو ختم نہیں کر دیا جاتا۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملی ٹنسی کی مالی معاونت اور بھرتیوں پر قابو پا لیا گیا ہے، سنہا نے کہا کہ ملی ٹنٹ تنظیموں اور ان کے سرپرستوں کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی گئی ہے۔منوج سنہا نے کہا ”اس سے پہلے بھی، عام آدمی چاہتا تھا کہ صورتحال بدل جائے لیکن اسے جان بوجھ کر جاری رہنے دیا گیا۔ لیکن اب وہ دن گئے جب وادی میں پتھراو¿ کیا جاتا تھا۔ پڑوسی کی کال پر ہرتال منائی گئی اور اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند کردی گئیں۔ اب، عام آدمی روزی روٹی کما رہا ہے“۔ انہوں نے کہا کہ علیحدگی پسندوں نے نہ صرف کشمیر کے عام آدمی کو گمراہ کیا بلکہ انہیں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے توپ کے چارے کے طور پر استعمال کیا۔ جب کہ ان کے (علیحدگی پسندوں کے) اپنے بچوں نے نئی دہلی، ممبئی اور یہاں تک کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کی، وہ غریب اور عام آدمی تھا جو مارا گیا اور اسے اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس عمل میں، بہت سی جانیں ضائع ہوئیں۔ ”کشمیری پنڈت بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سب کا فائدہ کس کو ہوا؟ علیحدگی پسندوں کے صرف چند خاندانوں کو فائدہ ہوا جبکہ باقی لوگوں کو نقصان پہنچا۔ تاہم، وزیر اعظم نریندر مودی نے 5 اگست 2019 کو تاریخی فیصلے لیے جس کے نتیجے میں حالات میں تبدیلی آئی“۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی فیصلوں پر قوم وزیراعظم کی مقروض رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب جموں و کشمیر کے لوگ ترقی کی نئی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہیں۔






