ترال دہشت گردی سے پاک لوگ امن ترقی خوشحالی کے متمنی/دلباغ سنگھ
سرینگر جنوبی کشمیرکے انتہائی حساس علاقے ترال کوعسکریت سے پاک قرار دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے کہاکہ امن کے قیام کے لئے علاقے کے لوگوں کی کوششیں رنگ لائی ترال ترقی خوشحالی کی طرف گامزن ہوگیاہے نوجوان بزرگ بچے اور خواتین اس کے لئے مبارک باد کے مستحق ہے ۔ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تمام کیس حل کئے گئے ہے عسکریت کوجڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھائے گئے ہے دراندازی اب ناممکن ہے صورتحال پرکڑی نظر رکھے ہوئے ہے ۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق جنوبی کشمیرکے انتہائی حساس علاقے ترال میں پولیس اسٹیشن کاافتتاح کرنے کے موقعے پرمنعقد کی گئی تقریب کے حاشئے پرزررائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو کے دوران جموںو کشمیرپولیس کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہاکہ ترال اب ملی ٹینسی سے پاک ہے جتنے بھی عسکریت پسند علاقے میں سر گرم تھے انہیں یاتو مارا گیایاگرفتار کیاگیاہے علاقے میں امن قائم کرنے کے لئے مقامی لوگوںکے تعاون کوہم فراموش نہیں کرسکتے ہے ۔انہوںنے کہاکہ ترقی خوشحالی کے لئے مقامی لوگوں کی جانب سے پولیس وسیول انتظامیہ کوجوتعاون فراہم کیاگیا تشدد نفرت غیرقانونی حرکات وسکنات اور ملک دشمن سرگرمیاں روکنے کے لئے اور ا سے دور رہنے کی خاطر مقامی لوگوں نے جو خدمات انجام دی ہے اس کے لئے وہ مبارک باد کے مستحق ہے کہ انہوںنے تشدد نفرت گمراہی کوخیرباد کرکے اپنے مستقبل کوروشن اور تابناک بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے ہےں ہرگھرترنگا گھرگھرترنگا لہرانے کے موقعے پرترال کے لوگوں نے جوخدمات انجام دی اس کے لئے ملک بھر میں نہیں بلکہ دنیا بھرمیں پذ رائے مل، رہی ہے۔ ڈی جی پی نے کہاکہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تمام کیسوں کوحل کیاگیاہے اور کئی ایک عناصر اب بھی سرگرم ہے جن پرہم کڑی نظررکھے ہوئے ہےں جلدہی منتقی انجام تک پہنچایاجائےگا ۔انہوںنے کہاکہ کشمیریت کوبدنام کرنے کے لئے سازشیں رچائی جارہی ہے تاہم ترال کے لوگوں نے یہ ثابت کردیاکہ وہ صدیوں پرانی روایتوں کواب بھی بنائے ہوئے ہے او ریہی ہماری پہچان ہے کہ ہم رواں داری کے اصولوں کواپناتے ہوئے امن خوشحالی اور ترقی کے لئے راہ ہموار کرےں ۔ڈی جی پی نے کہاکہ ابھی بھی چند افراد وادی کشمیرمیں سرگرم ہے اکہ دوکہ واقعات ہورہے ہے تاہم ایسے عناصر پرہم کڑی نظررکھے ہوئے ہے ۔دراندازی کوروکنے کے لئے بہتر سیکورٹی کے انتطامات ہونے کادعویٰ کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہاکہ رواں برس کے دوران بھی دراندازی ہوئی اور جو لوگ اس طرف آ نے میں کامیاب ہوئے انہیں مختلف جھڑپوں کے دوران مارا گیااور زیادہ تر دراندای کرنے والوں کوحدمتارکہ پرہی اپنے منتقی انجام تک پہنچایاگیا۔ انہوں کہاکہ سردیوں کے ایام میں دراندازی کے خدشات کوخارج نہیں کیاجاسکتا ہے اب اس طرح کی کوششوں کوہم کامیاب نہیں ہونگے دینگے ۔حدمتارکہ اور بین الاقوامی کنٹرول پرفورسز پوری طرح سے متحرک ہے ۔






