بھارت عالمی نظام کے درجہ بندی کے تصور پر یقین نہیں رکھتا ہے / راجناتھ سنگھ
سرینگر09۔۔۔۔۔ جنوری۔۔۔۔ سی این آئی ۔۔۔۔۔۔۔ بھارت عالمی نظام کے درجہ بندی کے تصور پر یقین نہیں رکھتا ہے جہاں کچھ ممالک کو دوسروں سے برتر سمجھا جاتا ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ جب ہم کسی بھی ملک کے ساتھ شراکت داری میں داخل ہوتے ہیں تو یہ مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ G20کے اندر اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور ایک زیادہ محفوظ، خوشحال، پائیدار اور منصفانہ دنیا کے ایجنڈے کو تشکیل دیا جائے۔سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق ایرو انڈیا 2023 کے سفیروں کی ایک گول میز کانفرنس نئی دہلی میں منعقد ہوئی جس میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی شرکت کی ۔ اس موقعہ پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ میک ان انڈیا میں میک فار دی ورلڈ بھی شامل ہے۔ ہندوستان ورلڈ آرڈر پر یقین نہیں رکھتا، جہاں کچھ ممالک کو دوسروں سے برتر سمجھا جاتا ہے۔ جب ہم کسی بھی ملک کے ساتھ شراکت داری میں داخل ہوتے ہیں تو یہ مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس وقت جی 20 کی صدارت کر رہا ہے۔ G20ممبران عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 85فیصدی ، عالمی تجارت کا 75فیصدی زیادہ، اور دنیا کی تقریباً دو تہائی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔راجناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ ہم ایک کلائنٹ یا سیٹلائٹ ریاست بنانے یا بننے میں یقین نہیں رکھتے ہیں، اور اس طرح جب ہم کسی بھی قوم کو شراکت دار بناتے ہیں، تو وہ خود مختار مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سفیروں کے ایک اجلاس میں کہا کہ ”میک ان انڈیا“کیلئے ہندوستان کی قومی کوششیں نہ تو تنہائی پسند ہیں اور نہ ہی وہ صرف ملک کیلئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان عالمی نظام کے درجہ بندی کے تصور پر یقین نہیں رکھتا ہے جہاں چند ممالک کو دوسروں سے برتر سمجھا جاتا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ہندوستان کی خود انحصاری کی پہل اس کے شراکت دار ممالک کے ساتھ شراکت داری کے ایک نئے نمونے کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ ”میک ان انڈیا“کیلئے ہماری قومی کوششیں نہ تو تنہائی پسند ہیں اور نہ ہی وہ صرف ہندوستان کے لیے ہیانہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ G20کے اندر اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور ایک زیادہ محفوظ، خوشحال، پائیدار اور منصفانہ دنیا کے ایجنڈے کو تشکیل دیا جائے۔ ہم G20کی چیئرمین شپ کو دنیا کے سامنے ہندوستان کو دکھانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔






