وزیر اعظم نریندر مودی کا انتہائی مشکور ہوں
جی ڈبیلو 13پروجیکٹ کی بدولت کشمیر کو سرمائی ایام میں معقول بجلی فراہم ہوگی :ایل جی منوج سنہا
سری نگر،20اکتوبر/یو این آئی/ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعے کے روز کہاکہ جی ڈبیلو 13قابل تجدید توانائی پروجیکٹ کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کا مشکور ہوں۔انہوں نے کہاکہ اس پروجیکٹ کو لہیہ ، آلسٹینگ سری نگر ٹرانسمیشن لائن سے بھی جوڑا جائے گا جس سے وادی کشمیر کو سردی کے ایام میں متواتر بجلی فراہم ہوگی۔ان کے مطابق یہ منصوبہ وادی کو بجلی کا متبادل ذریعہ پیش کرئے گا جس کے نتیجے میں سرمائی ایام کے دوران جموں وکشمیر کو بجلی کی معقول فراہمی یقینی بن جائے گی۔ان باتوں کا اظہار جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے راج بھون سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں مرکزی حکومت نے لداخ کے لئے جی ڈبیلو 13قابل تجدید توانائی پروجیکٹ کو منظوری دی ہے اور اس پروجیکٹ کو لہیہ آلسٹینگ سری نگر لائن سے بھی جوڑا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے سے وادی کشمیر کو بھی بجلی فراہم ہوگی اور یہ کہ میں مرکزی حکومت خاص کر وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔منوج سنہا نے کہاکہ 13گیگا واٹ قابل تجدید توانائی پروجیکٹ سے ملک کے دیگر حصوں کے علاوہ جموں وکشمیر بھی مستفید ہوگا۔انہوں نے کہاکہ یوٹی انتظامیہ لوگوں کو بغیر خلل اور قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی کے لئے پر عزم ہے۔منوج سنہا نے مزید کہاکہ یہ باوقار منصوبہ چوبیس گھنٹے بجلی کی دستیابی کو یقینی بنائے گا۔ان کے مطابق لداخ سے کشمیر کو بجلی کی منتقلی سے جموں خطے میں بھی برقی رو کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ایل جی نے کہاکہ بجلی پیدا کرنے کے لئے ٹرانسمیشن لائن ہماچل پردیش اور پنجاب سے ہوتے ہوئے ہریانہ تک چلے گی جو نیشنل گرڈ کے ساتھ مربوط ہوگی اور لداخ کے موجودہ گرڈ اور کشمیر کے گاندربل ضلع میں 220کے وی آلسٹینگ گرڈ سے لہیہ ، آلسٹینگ سری نگر لائن کے ذریعے بجلی فراہم کرئے گی اور اس طرح سے وادی کشمیر کو بھی اس سے فائدہ ہوگا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ گاندربل ضلع میں آلسٹینگ گرڈ کو مزید 220کے وی زینہ کوٹ گرڈ سے جوڑا گیا ہے ، مزید براں 220کے وی میر بازار گرڈ کو آلسٹینگ گرڈ سے منسلک کیا جارہا ہے۔کشمیر کے 220کے وی گرڈز کے ساتھ لداخ کے مجوزہ کنیکٹوٹی کو مد نطر رکھتے ہوئے یہ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ لداخ سے بجلی کی منتقلی پوری وادی کشمیر پر مثبت اثر ڈالے گی، خاص طور پر موسم سرما کے مہینوں میں بجلی کی دستیابی میں کافی بہتری آنے کی امیدہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جی ڈبیلو 13منصوبہ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم سے لیس ہیں جو لدخ اور کشمیر کے درمیان بچھائے گئے ٹرانسمیشن سسٹم کی صلاحیت کی بنیاد پر جموں وکشمیر کو چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کی بدولت سردی کے ایام میں وولٹیج میں بھی بہتری واقع ہوگی۔منوج سنہا نے کہاکہ خط لداخ میں آر ای پروجیکٹ کم کاربن فوٹ پرنٹس کے ساتھ قابل تجدید توانائی فراہم کرے گا اور کشمیر ، لدخ خطوں میں سردی کے ایام میں بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھائے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ موجودہ لہیہ آلسٹینگ سری نگر لائن کے ذریعے آر ای پاور کی دستیابی وادی میں ٹرانسمیشن سسٹم کو بھی بہتر بنائے گا۔انہوں نے کہاکہ یوٹی انتظامیہ نے لداخ سے کشمیر تک چار سو کے وی کی نئی ٹرانسمشین لائن بچھانے کی تجویز پیش کی ہے۔سردی کے ایام میں بجلی فراہم کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ انتظامیہ نے سردیوں کے دوران مزید بجلی کی فراہم کی خاطر زمینی سطح پر کام شروع کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ برف ہٹانے کے لئے درکار سازو سامان بھی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ایل جی نے کہاکہ راشن ، ادویات اور دیگر ضروری سہولیات کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یقینی بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ لداخ میں قابل تجدید توانائی کے لئے کافی گنجائش موجود ہے اور اسی وجہ سے گیگا واٹ پیمانے پر شمسی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت قائم کرنے کی خاطر ایک موزون جگہ ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے 15اگست 2020کو یوم آزادی کی تقریب کے دوران لداخ میں 7.5میگاواٹ سولر پارک قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔وسیع فیلڈ سروے کے بعد نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت نے بارہ جی ڈبیلو بیٹر ی انرجی سسٹم کے ساتھ جی ڈبیلو 13قابل تجدید توانائی پیدواری صلاحیت قائم کرنے کے لئے منصوبہ تیار کیا ہے۔بجلی کی اس بڑی مقدار کو حاصل کرنے کی خاطر بین ریاستی ٹرانسمیشن انفرا سٹرکچر بنایا جارہا ہے ۔یہ منصوبہ ملک کی طویل مدتی توانائی کی حفاظت کو فروغ دینے اور کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کرکے ماحولیاتی طور پر پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔لداخ کا خطہ بجلی اور دیگر متعلقہ شعبوں میں ہنر مند اور غیر ہنر مند اہلکاروں کے لیے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے بڑے مواقع بھی پیدا کرے گا۔یو این آئی






