سری نگر….29 جنوری…… وزیر اعظم نریندر مودی نے بچوں کو امتحانی دباو¿ سے آزاد کرنے میں والدین اور اساتذہ کے کردار پر زور دیتے ہوئے آج کہا کہ والدین کو اپنے بچے کی کامیابیوں کو اپنا وزیٹنگ کارڈ نہیں بنانا چاہئے اور اساتذہ کو اپنا کام صرف جاب نہیں بلکہ طلبائ کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی ذمہ داری کو سمجھنا چاہئے یہاں بھارت منڈپم میں پریکشا پہ چرچا (پی پی سی) کے 7ویں ایڈیشن کے دوران طلبائ ، اساتذہ اور والدین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے مسٹر مودی نے بچوں کو سکھایا کہ وہ اپنے ہم جماعتوں اور دوستوں کے ساتھ لین دین کا رویہ نہ رکھیں، بلکہ ان کی کامیابیوں پر فخر کریں۔ خوشی منائیں اور خود آگے بڑھنے کے لیے اس سے تحریک لیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر لگائی گئی آرٹس اینڈ کرافٹس کی نمائش کا بھی دورہ کیا۔نمائش میں طلبائ کی تخلیقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ڈسپلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ نئی نسلیں مختلف موضوعات کے بارے میں کیا سوچتی ہیں اور ان کے پاس ان مسائل کا کیا حل ہے۔ مسٹر مودی نے طلباءکو مقام یعنی بھارت منڈپم کی اہمیت کے بارے میں بتایا اور انہیں جی۔20 سربراہی اجلاس کے بارے میں بتایا جہاں تمام بڑے عالمی رہنما اکٹھے ہوئے تھے اور دنیا کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا تھا۔انہوں نے عمان کے ایک پرائیویٹ سی بی ایس ای اسکول کی دانیہ شبو، ایک سرکاری اسکول کے محمد عرش اور دہلی کے سروودیہ بال ودیالیہ کے طلبہ سے بات چیت کی کہ ثقافتی اور سماجی توقعات جیسے بیرونی عوامل سے پیدا ہونے والے دباو¿ اور تناو¿ کو کیسے کم کیا جائے۔ انہوں نے طلباءپر بیرونی عوامل کے اضافی دباو¿ کے اثرات کو کم کرنے میں اساتذہ کے کردار پر روشنی ڈالی اور اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ والدین نے وقتاً فوقتاً اس کا تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو دباو¿ سے نمٹنے کے قابل بنانے اور اس کے لیے تیاری کو زندگی کا حصہ بنانے کا مشورہ دیا۔وزیر اعظم نے طلباءپر زور دیا کہ وہ ایک انتہائی موسمی حالت سے دوسری طرف سفر کرنے کی مثال دیتے ہوئے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کریں جہاں دماغ پہلے سے ہی شدید موسمی حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے تناو¿ کی سطح کا اندازہ لگانے اور اسے بتدریج بڑھانے کا مشورہ بھی دیا تاکہ طالب علم کی صلاحیت اس سے متاثر نہ ہو۔ مسٹر مودی نے طلباء، خاندانوں اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ ایک منظم نظریہ مسلط کرنے کے بجائے ایک عمل تیار کرکے بیرونی تناو¿ کے مسئلے کو اجتماعی طور پر حل کریں۔انہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ طلباءکے اہل خانہ کو مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کرنا چاہئے جو ان میں سے ہر ایک کے لئے کارآمد ہو سکتے ہیں۔





