سرینگر 16فروری ………سی این آئی………وزیر اعظم نریندر مودی کے 20فروری کو دورے جموں کشمیر کے پیش نظر جہاں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں وہیں دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی 3161 کروڑ روپے کے بڑے پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے اور کچھ ایک دیگر کا سنگ بنیاد رکھیں گے ۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو عملی طور پر ملازمت کے خطوط فراہم کریں گے اور لوگوں سے بات چیت بھی ہو گی جبکہ لوک سبھا انتخابات کیلئے بی جے پی کی انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز کریں گے۔سی این آئی کے مطابق 20 فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی جموں کشمیر کے دورے پر وارد ہو رہے ہیںجس دوران ان کے ہاتھوں 3161 کروڑ روپے کے 209 پروجیکٹوں کا افتتاح ہوگا ۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم کا دورہ صرف مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں تک ہی محدود رہے گا جہاں سے وہ عملی طور پر متعدد پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے جبکہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے لوگوں سے بات چیت کریں گے ۔ اس کے علاوہ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم کا تقریباً دو گھنٹے طویل پروگرام ہوگا جس ودران جموں کشمیر کے نوجوانوں کو ملازمت کے خطوط فراہم کریں گے اور ایک بڑے جلسے سے خطاب کریں گے۔ خیال رہے کہ ٹرین بارہمولہ سے بانہال سے 48.5 کلو میٹر آگے چلنا شروع ہو چکی ہے اور ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم کے ذریعہ عملی طور پر افتتاح کیا جائے گا۔ اس موقعہ پر وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا دیگر کے علاوہ وزیر اعظم کے ساتھ ہوں گے۔ وزیر اعظم ہزاروں کروڑ کی لاگت سے چلنے والے متعدد پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے جن میں سانبہ ضلع میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) وجے پور، ضلع ریاسی میں سب سے اونچا ریلوے پل، دیویکا ریجوینیشن پروجیکٹ، شاہ پور کنڈی پروجیکٹ، آئی آئی ایم جموں، کئی بڑی سڑکیں اور پروجیکٹ شامل ہیں۔اور مجموعی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی جموں اور کشمیر کے دونوں صوبوں کیلئے عملی طور پر مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں سے ہی 209 پروجیکٹوں میں سے124 کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور 3161 کروڑ روپے کے 85 پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے۔جن منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا ان میں 2210 کنال پر محیط نو انڈسٹریل اسٹیٹس، 62 سڑکوں کے پروجیکٹوں اور 42 پلوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن، اننت ناگ، کولگام، کپواڑہ، شوپیاں اور پلوامہ میں نو مقامات پر کشمیری مائیگرنٹ پنڈتوں کیلئے 2816 فلیٹس، اپ گریڈیشن/ سرینگر کے پارمپورمیں ٹرانسپورٹ نگر اور جموں سمارٹ سٹی کیلئے انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کیلئے ڈیٹا سینٹر/ڈیزاسٹر ریکوری سینٹر کی از سر نو تعمیر شامل ہے ۔ وزیر اعظم جن 85 پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے ان میں گاندربل اور کپواڑہ میں کشمیری پنڈتوں کیلئے 224 فلیٹس کی ٹرانزٹ رہائش، چار مقامات پر ڈگری کالج کی عمارتوں کا انفراسٹرکچر، کٹھوعہ میں ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری، گرڈ اسٹیشن، ریسیونگ اسٹیشنز اور ٹرانسمیشن لائن پروجیکٹ شامل ہیں۔ جموں و کشمیر کے 12 سڑکوں کے منصوبے اور تین پل، ناروال فروٹ منڈی کی جدید کاری، سانبہ میں پانچ کامن ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس اور سری نگر شہر میں انٹیلیجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم شامل ہیں۔وزیر اعظم مودی چند نوجوانوں کو ملازمت کے خطوط دیں گے جبکہ باقی کو عملی طور پر خط مل جائیں گے۔ جموں و کشمیر حکومت کے ذریعے بھرتی کیے گئے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو وزیر اعظم کی طرف سے تقرری کے خطوط ملیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ ”جن پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد نریندر مودی رکھیں گے اس سے جموں و کشمیر کی ترقی کو بڑا فروغ ملے گا،“ ذرائع نے مزید کہا کہ وہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے لوگوں سے بات چیت بھی کریں گے۔پروگراموں کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی ایم اے اسٹیڈیم میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کریں گے جس کے ایک لاکھ تک پہنچنے یا اس سے بھی تجاوز کرنے کی امید ہے۔یہ 24 اپریل 2022 کو سانبہ ضلع کے پلی پنچایت میں پروگرام کے بعد مودی کی پہلی ریلی ہوگی اور یہ لوک سبھا انتخابات کیلئے بی جے پی کی مہم کے آغاز کا اشارہ دے گی۔ادھر وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ جموں کشمیر کے پیش نظر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے جموں کشمیر کے پیش نظر کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے جموں و کشمیر میں سیکورٹی کا سخت بند وبست کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جموں وکشمیر کی شاہراہوں اور دیگر لنک روڈس پر جہاں سیکورٹی فورسز کے عملے کی تعیناتی میں اضافہ کیا گیا ہے وہیں سرینگر، جموں شاہراہ کے دیگر علاقوں میں چیک پوائنٹس بڑھا دئے گئے ہیں۔






