سرینگر۔۔۔۔24مئی۔۔۔۔ سی این آئی۔۔۔ سخت ترین سیکورٹی انتظامات کے بیچ ملک بھر میں لوک سبھا انتخابات 2024کے چھٹے مرحلے کے تحت آج ووٹ ڈالیں جائیں گے جس کیلئے تمام تر تیاریوں کو حمتی شکل دی جا چکی ہے ۔چھٹے مرحلے میں جموں کشمیر میں پارلیمانی حلقہ اننت ناگ راجوری میں ووٹنگ کے دوران 18لاکھ دہندگان اپنے جمہوری حق کو ادا کریں گے۔ چھٹے مرحلے میں ہونی والی پولنگ میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل 18 لاکھ 30ہزار ووٹران میں سے 8.99 لاکھ خواتین ہیں۔ اس کے علاوہ، تقریباً 81,000 پہلی بار ووٹ دینے والے ہیں جنہوں نے 2019 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد اپنا اندراج کرایا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق کڑے حفاظتی حصار کے بیچ لوک سبھا انتخابات کے چھٹے مرحلے کیلئے پولنگ آج ہونی والی ہے ۔ چھٹے مرحلے میںجموں کشمیر میںلوک سبھا انتخابات پارلیمانی حلقہ اننت ناگ راجوری میں ووٹنگ ہوگی ۔ اس پارلیمانی حلقہ میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، سابق وزیر میاں الطاف، جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے رہنما ظفر اقبال منہاس اور اننت ناگ میں ڈی پی اے پی لیڈر مقبول پارے سمیت 20 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ 18.30 لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان کریں گے۔چھٹے مرحلے میں پولنگ ہونے والی یونین ٹیریٹری کی آخری لوک سبھا سیٹ پر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل 18.30 لاکھ ووٹرز میں سے 8.99 لاکھ خواتین ہیں۔ اس کے علاوہ، تقریباً 81,000 پہلی بار ووٹ دینے والے ہیں جنہوں نے 2019 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد اپنا اندراج کرایا ہے۔جموں و کشمیر کی چار دیگر لوک سبھا سیٹوں کی طرح اننت ناگ راجوری حلقہ بھی 18 اسمبلی حلقوں میں پھیلا ہوا ہے جن میں راجوری ضلع میں چار، پونچھ میں تین، اننت ناگ میں سات، کولگام میں تین اور شوپیاں میں ایک شامل ہے۔ اس طبقہ کے کل سات اضلاع راجوری اور پونچھ کے جڑواں سرحدی اضلاع میں آتے ہیں۔ اور جنوبی کشمیر کے اضلاع اننت ناگ، کولگام اور شوپیاں میں 11آتے ہیں ۔ حکام سرینگر اور بارہمولہ کی طرح اننت ناگ راجوری حلقہ میں بھی زیادہ ٹرن آو¿ٹ کی توقع کر رہے ہیں۔ جہاں جموں ڈویژن کے راجوری اور پونچھ اضلاع میں ہمیشہ کافی ووٹنگ دیکھنے میں آئی، جنوبی کشمیر پہلے کم ٹرن آو¿ٹ کیلئے جانا جاتا تھا لیکن سرینگر اور بارہمولہ سیٹوں کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے الیکشن حکام کو یقین ہے کہ اننت ناگ، کولگام اور شوپیاں میں اچھا ٹرن آو¿ٹ ہوگا۔ اننت ناگ راجوری سیٹ پر یہ پہلا الیکشن ہے۔سال 2019 میں، جنوبی کشمیر ایک پارلیمانی حلقہ تھا جبکہ راجوری اور پونچھ اضلاع جموں لوک سبھا سیٹ کا حصہ تھے۔ تاہم، حد بندی کے بعد، سیٹ جموں ڈویژن کے سات اور کشمیر کے 11 اسمبلی حلقوں کے ساتھ بنائی گئی۔ اس سے پہلے کشمیر ڈویژن میں لوک سبھا کی تین اور جموں ڈویژن کی دو نشستیں تھیں۔ اب دونوں صوبوں میں ڈھائی اور ڈھائی نشستیں ہیں۔عہدیداروں نے بتایا کہ انتخابی حلقے میں تمام حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور ووٹنگ سے قبل پولنگ اسٹیشنوں پر نیم فوجی دستے، جموں و کشمیر پولیس اور مسلح پولیس کو تعینات کیا جارہا ہے۔ پولنگ سے قبل حساس علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں کی گشت بھی تیز کر دی گئی ہے۔حلقے میں کل 2338 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں جن میں سے 2113 دیہی علاقوں اور 225 شہری علاقوں میں ہیں۔






