سرینگر…30نومبر …سی این آئی…. بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کے خلاف پروپیگنڈے کیلئے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے آئین کی روح کو کچل دیا ہے اور جمہوریت کے تمام اصولوں کو مسترد کر دیا ہے۔سی این آئی کے مطابق اوڈیشہ کے بھبنشور میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اپوزیشن کا صرف ایک ہی مقصد ہے ۔ انہوں نے کہا ” جو لوگ اقتدار کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں وہ گزشتہ ایک دہائی سے مرکز میں اقتدار میں نہیں ہیںآئین کی روح کو (ان کے ذریعے) کچل دیا گیا ہے۔ جمہوریت کے تمام اصولوں کو مسترد کردیا گیا ہے۔ “ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بالکل فطری ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مختلف ایشوز پر نظریاتی اختلافات ہوں گے اور انہیں اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا”لیکن اب، کوئی محسوس کر سکتا ہے، ایک بڑی تبدیلی آئی ہے کیونکہ ہماری جمہوریت اور آئین کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے“۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ”پچھلی دہائی سے اقتدار سے محروم، ایسی پارٹیاں اب اس قدر غصے سے بھری ہوئی ہیں کہ وہ ملک اور اس کے لوگوں کے خلاف سازش کرنے سے نہیں ہچکچاتی ہیں۔ وہ لوگوں کو جھوٹ اور افواہوں سے گمراہ کر رہے ہیں۔ “ وزیر اعظم مودی نے نوٹ کیا کہ اس طرح کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہندوستان کے لوگوں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے، اور بی جے پی کے کارکنان اور جو لوگ ملک سے محبت کرتے ہیں اور آئین کا احترام کرتے ہیں، انہیں ایسی کوششوں کو ناکام بنانا چاہیے اور جھوٹ کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بی جے پی نے اڈیشہ کی ترقی کے لئے وقف سے کام کیا، یہاں تک کہ جب پارٹی مشرقی ریاست میں اقتدار میں نہیں تھی۔انہوں نے زور دے کر کہا”اڈیشہ کے انتخابی نتائج نے بہت سے بڑے سیاسی ماہرین کو حیران کر دیا، جنہوں نے ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنانے کے خیال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ اوڈیشہ، ہریانہ اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی انتخابی کامیابی ہمارے پارٹی کارکنوں کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ “ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اوڈیشہ کی بھرپور ثقافت اور روایت کا احترام کرتی ہے اور اسے ترجیح دیتی ہے۔انہوں نے کہا ”مجھے خوشی ہے کہ بی جے پی کی کوششوں سے، اڈیشہ کی قبائلی بیٹی دروپدی مرمو آج ملک کی صدر ہیں۔ اس سے معاشرے کے تمام طبقوں کی بیٹیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا سفر آنے والی کئی نسلوں کو متاثر کرے گا۔ “






