نئی دہلی……. ۵۲،اگست…….جے کے این ایس ………مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یقین ظاہر کیا ہے کہ اپوزیشن کی شدید تنقید کے باوجود آئین (130ویں ترمیم) بل2025 منظور ہو جائے گا۔ اس بل میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزراءکو عہدے سے خود بخود ہٹانے کی تجویز دی گئی ہے۔ بشرطیکہ اگر انہیں 5 سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا کے تحت گرفتار کر کے مسلسل30 دن تک حراست میں رکھا جائے۔ بل کو تفصیلی جانچ کےلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی و بھیج دیا گیا ہے۔ یہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے 31 ارکان پر مشتمل ہے۔ کمیٹی بل کا جائزہ لے گی اور ووٹنگ سے قبل اپنی سفارشات پیش کرے گی۔جے کے این ایس کے مطابق خبرررساں ادارے ’اے این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ’آئینی اخلاقیات‘ اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئین (130ویں ترمیم) بل2025 کا اطلاق بشمول حکمران جماعت میں شامل افراد تمام لیڈروں پر یکساں طور پر ہو گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ بل منظور ہو جائے گا۔ کانگریس پارٹی اور اپوزیشن میں بہت سے لوگ ہوں گے جو اخلاقیات کی حمایت کریں گے اور اخلاقی بنیاد کو برقرار رکھیں گے۔اس سوال کہ ’وزیر اعظم جیل گئے تو انہیں استعفیٰ دینا پڑے گا‘،مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ وزیر اعظم مودی نے خود اس میں وزیر اعظم کا عہدہ شامل کیا ہے ، اس سے قبل اندرا گاندھی39ویں ترمیم لائی تھیں (صدر، نائب صدر، وزیر اعظم اور لوک سبھا کے اسپیکر کو بھارتی عدالتوں کی جانب سے عدالتی نظرثانی سے بچانے کےلئے)۔ امت شاہ نے کہاکہ نریندر مودی اپنے خلاف آئینی ترمیم لائے ہیں کہ اگر وزیر اعظم جیل گئے تو انہیں استعفیٰ دینا پڑے گا۔عدالت بھی سمجھتی ہے، قانون کی سنگینی: وزیر داخلہ امت شاہ نے آئین (130ویں ترمیم) بل2025 متعارف کرایا۔ اس کا مقصد وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزراءکو عہدے سے ہٹانا ہے اگر وہ5 سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا کے الزامات کے تحت مسلسل 30 دن تک گرفتار اور نظر بند رہیں۔ اس بل نے گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ اس کے سیاسی مقاصد غیر بی جے پی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے ہیں۔ امت شاہ نے اپوزیشن کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ حکومت 130ویں ترمیمی بل کے تحت ضمانت میں تاخیر کےلئے عدالتوں پر دباو¿ ڈال سکتی ہے۔وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم جیل میں رہ کر حکومت نہیں چلا سکتا:مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے130ویں ترمیمی بل پر کہاکہ ہماری عدالت بھی قانون کی سنگینی کو سمجھتی ہے، جب کسی کو 30 دن بعد استعفیٰ دینا ہوتا ہے، اس سے پہلے عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ اسے ضمانت ملنی چاہیے یا نہیں۔ جب یہ معاملہ ہائی کورٹ میں گیا تو دلیل دی گئی کہ اروند کیجریوال کو استعفیٰ دے دینا چاہیے کیونکہ وہ جیل میں ہیں، ہائی کورٹ نے کہا کہ ہمیں اس بنیاد پر استعفیٰ دینا چاہیے، لیکن ہم اس بات پر یقین نہیں کریں گے کہ اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ میری جماعت کا ماننا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم یہ مانتا ہے کہ اس ملک کا کوئی وزیر اعلیٰ، وزیر یا وزیر اعظم جیل میں رہ کر حکومت نہیں چلا سکتا، جب آئین بنا تو آئین بنانے والوں نے ایسی بے شرمی کا تصور بھی نہیں کیا ہو گا کہ ایک وزیر اعلیٰ جیل جائے گا اور جیل سے وزیر اعلیٰ رہے گا۔عدالتیں قانون کے غلط استعمال کو روکیں گی:اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے امت شاہ نے واضح کیا کہ بل میں کسی خاص پارٹی یا لیڈر کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتیں اس کے غلط استعمال کو روکیں گی۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی عدالت میں جا کر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم مانگ سکتا ہے۔ یو پی اے حکومت کے دوران عدالت کے حکم پر کئی تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ میں کم از کم 12 معاملات کے نام بتا سکتا ہوں جہاں عدالت نے سی بی آئی کو جانچ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کے بارے میں پوچھے جانے پر امت شاہ نے کہا کہ انہیں 30 دن کے اندر ضمانت مل گئی تھی۔کوئی بھی جیل سے حکومت نہیں چلا سکتا: وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ اروند کیجریوال کو 30 دن کے اندر ضمانت مل گئی تھی اور مجھے یقین ہے کہ انہیں اس وقت استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ اس وقت پیش کیا جب لوگوں نے ان کےخلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے کہاکہ اب ایسے افراد کو قانونی طور پر اپنا استعفیٰ دینا ہوگا۔امت شاہ نے یہ بھی واضح کیا کہ بل انصاف فراہم کرتا ہے، کسی بھی رہنما کو 30 دن کے بعد بھی ضمانت حاصل کرنے، حلف اٹھانے اور دفتر میں واپس آنے کی اجازت دیتا ہے۔ امت شاہ نے کہاکہ وہ ضمانت ملنے کے بعد حلف اٹھا سکتے ہیں۔ضمانت ملتے ہی اپنے عہدے پر واپس آ سکتے ہیں: وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی جیل سے حکومت نہیں چلا سکتا۔ اگر انہیں 40 دن کے اندر ضمانت مل جاتی ہے تو وہ دوبارہ حلف اٹھا سکتے ہیں۔ اس سے انہیں یہ اعتماد ملنا چاہیے کہ وہ ضمانت ملتے ہی اپنے عہدے پر واپس آ سکتے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے بائیکاٹ پر، امت شاہ نے کہا کہ حکومت نے انہیں اس میں حصہ لینے کا مناسب موقع دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم ان سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ شامل ہوں اور شرکت کریں۔جے پی سی کو تمام جماعتوں کے خیالات کی عکاسی کرنی چاہیے: وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ پارلیمنٹ کے اصولوں سے انکار کرنا اور پھر یہ توقع رکھنا کہ سب کچھ آپ کی شرائط پر ہوگا۔انہوںنے کہاکہ حکومت انہیں ایک موقع دے رہی ہے لیکن اگر وہ نہیں مانیں گے تو ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ امت شاہ نے کہاکہ اگر وہ جے پی سی میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ انہوں نے زور دیا کہ جے پی سی اہم ہے اور اسے تمام جماعتوں کے خیالات کی عکاسی کرنی چاہیے۔ امت شاہ نے کہاکہ یہ ایک اہم بل ہے اور جے پی سی میں ہر پارٹی کی رائے سنی جانی چاہیے۔ امت شاہ نے کہاکہ اگر اپوزیشن اگلے4 سال تک اس بل کی حمایت نہیں کرتی ہے تو کیا ملک کام کرنا بند کر دے گا؟ ایسا نہیں ہو گا۔انہوںنے کہاکہ ہم انہیں صرف اپنے خیالات بتانے کی اجازت دے رہے ہیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو عوام دیکھ رہی ہے۔






